کراچی کا المیہ

ندیم احمد جمال
آئین پاکستان کے کل 280آرٹیکلزہیں جن میں سے پہلے40 آرٹیکلزعوام کے حقوق اوربقیہ240 آرٹیکلزطرزِحکمرانی پربحث کرتے ہیں- ان میں آرٹیکل 3 استحصال کا خاتمہ کے بارے میں ہے یعنی آئین پاکستان کے تحت کسی بھی شہری کے خلاف کوئی استحصال نہیں کیا جا سکتا- آرٹیکل 9 میں فرد کی سلامتی کو یقینی بنانے کے اقدامات کے بارے میں بیان میں کیا گیا ہے اور اسی طرح آرٹیکل 32 بلدیاتی اداروں کا فروغ، آرٹیکل 33 عصبیت کی حوصلہ شکنی ، آرٹیکل 37 معاشرتی انصاف کا فروغ اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور آرٹیکل 38 عوام کی معاشی اورمعاشرتی فلاح وبہبود کا فروغ دینے سے متعلق ہیں- ویسے تو پورے پاکستان میں ہی ان آئینی تشریحات اور تحفظ کی کوئی قدر نہیں لیکن پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جو پورے پاکستان کو 70 فیصد ریونیو کما کر دیتا ہے ان سب آئینی تقاضوں اور تحفظ سے محروم ہے –
کراچی کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ خواہ یہاں کے مقامی ہوں یا غیر مقامی کوئی اس سے پیار ہی نہیںکر تا- غیرمقامی تو ویسے ہی یہاں لوٹ مار کر کے گاو¿ں چلا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ رہی کہ یہاں کا مستقل رہائشی یعنی ایم کیو ایم کو بھی اس شہر کا مینڈیٹ ملا پر انہوں نے بھی اس شہر کو دنیا کا بہترین شہر بنانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی – آج جب کہ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے 12 سالہ پرآشوب اور لوٹ مار کے بعد کراچی کو صوبہ بنانے کی مہم چلا رہی ہے تو اسے اپنی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر سبکی کا سامنا ہے کہ وہ جب اس شہر میں بااختیار تھی تو اس نے کیوں نہیں اس شہر کا نقشہ بدلا- یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم نے اپنے دور بلدیات میں خاصا نمایاں کام تو کیا تھا لیکن مینڈیٹ کے لحاظ سے یہ بھی کم ثابت ہوا-
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آج کراچی پورے پاکستان کو پالنے والا شہر سیوریج، پانی، ٹوٹی سڑکیں ، کچرہ کے مسائل کا شکار ہے۔ کراچی کس طرح وفاقی اور سندھ حکومت کو کما کر دیتا ہے اس کا اندازہ ایک یہ چھوٹا سا جائزہ سے لگایا جا سکتا ہے جو کراچی کی مختلف مارکیٹوں نے ٹیکس جمع کروایا اس کے حوالے سے ہے۔
کراچی کی مشہور برنس روڈ کی فوڈ اسٹریٹ کے 807دکانداروں نے 11کروڑ 13لاکھ روپے سے زائد کے ٹیکس ادا کیے۔ کراچی کی لالوکھیت کی مارکیٹ نے طارق روڈ کی مارکیٹ کے برابر ٹیکس ادا کرکے غریب امیر کافرق مٹا دیا۔ ایف بی آر کے جاری کردہ مالی سال 2017-18کے انکم ٹیکس کے اعدادوشمار کے مطابق کراچی کے صدر کے علاقے میں قائم بازاروں نے مجموعی طور پر 77ارب روپے سے زائد کے ٹیکس جمع کرائے، صدر کراچی کے تجارتی مراکز سے جمع ہونے والا ٹیکس ملک کے صنعتی اور ایس ایم ایز کے مرکز شہروں فیصل آباد، سیالکوٹ، وزیر آباد، گوجرانوالہ سے کہیں زیادہ ٹیکس جمع کرایا۔
کراچی کے 100سے زائد تجارتی مراکز اور بازاروں نے مجموعی طور پر 94ارب روپے سے زائد کا انکم ٹیکس ادا کیا- جس میں صدر کے بازاروں کا حصہ 82فیصد کے لگ بھگ ہے۔ضلع وسطی کے علاقے لیاقت آباد، (لالوکھیت)کی غریب پرور مارکیٹ کے 10ہزار 803دکانداروں نے ایک ارب روپے کا انکم ٹیکس جمع کرایا۔ لیاقت آباد کے بازاراور بیشتر تجارتی مراکز میں تین ہفتے گزرجانے کے باوجود بارش اور سیوریج کاپانی کھڑا ہے اور کورونا لاک ڈاو¿ن کے بعد طوفانی بارشوں میں دکانیں زیر آب آنے کی وجہ سے سیکڑوں دکاندار دیوالیہ جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ کراچی میں نئی اشیاءفروخت کرنے والے تجارتی مراکز کے ساتھ استعمال شدہ کپڑے، بیگ، شوز اور دیگر روز مرہ اشیاءکے بازار بھی ٹیکس ادا کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں پرانے سامان کی سب سے بڑی مارکیٹ لائٹ ہاو¿س اور لنڈا بازار نے 5کرو24لاکھ روپے کا انکم ٹیکس دیا، پرانے ملبوسات کے مرکز مشرق سینٹر سے 28لاکھ روپے ٹیکس وصول کیا گیا – کراچی کی خوبصورتی بحال کرنے کے لیے منتقل کی جانے والی ایمپریس مارکیٹ نے 19کروڑ 65لاکھ روپے کا ٹیکس دیا، کتابوں کے مرکز اردو بازار کے 540کتب فروشو ں نے 26کرو44لاکھ روپے کا ٹیکس دیا۔ کراچی کے کچھ قدیم بازار بھی ٹیکس دینے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے قیام پاکستان سے قبل قائم ہونے والے سولجر بازار کے دکانداروں نے 32کروڑ سے زائد ٹیکس ادا کیا، کراچی کے ایک اور قدیم علاقے لیاری کی لی مارکیٹ کے 250دکانداروں سے ایف بی آر نے 2کروڑ34لاکھ روپے ٹیکس وصول کیا۔ لانڈھی کی بابر مارکیٹ کے 200دکانداروں نے ایک کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکس دیا، کئی سال تک بدامنی بھتا خوری اور قتل و غارت کے بعد اب بلدیاتی مسائل کی وجہ سے ٹھپ ہوجانے والی شیرشاہ کباڑی مارکیٹ نے بھی 2کروڑ68لاکھ روپے کا ٹیکس ادا کیا۔
کراچی میں کپڑوں کے بازاروں سے بھی انکم ٹیکس کی وصولی بھرپور رہی جامع کلاتھ مارکیٹ نے ایک کروڑ 84لاکھ روپے کا ٹیکس دیا، جوبلی کلاتھ مارکیٹ نے 7کروڑ42لاکھ روپے ٹیکس دیا کراچی میں کپڑے کی ہول کوچین والا مارکیٹ نے بھی 4کروڑ24لاکھ روپے ٹیکس دیا۔ حیدری مارکیٹ سے 18کروڑ روپے، نارتھ کراچی کی ہارون ایمپوریم اور ارم ایمپوریم نے بالترتیب 67لاکھ روپے اور 43لاکھ روپے ٹیکس دیا۔ امپورٹڈ سامان کے مرکز گل پلازہ نے 16کروڑ45لاکھ روپے ٹیکس دیا، کراچی سبزی منڈی سے 21کروڑ52لاکھ روپے ٹیکس وصول کیا گیا، خواتین کی مصنوعات اور زیبائش کے مرکز مینا بازار میں جہاں بیشتر خواتین ہی تاجر ہیں ایک کروڑ78لاکھ روپے کا ٹیکس دیا۔ کراچی میں کمپیوٹر کے سامان کی بڑی مارکیٹ یونی سینٹر نے بھی 60کروڑ روپے کا ٹیکس دیا۔ ملک کے سب سے بڑے لکڑی کی تجارت کے مرکز ٹمبر مارکیٹ کے تاجروں نے 23کروڑ31لاکھ روپے ٹیکس دیا۔ گاڑیوں کے پرزہ جات کے مرکز تبت سینٹر کی مارکیٹ نے ڈیڑھ کروڑ روپے کا ٹیکس دیا۔
کراچی سے سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے 10سرفہرست بازاروں نے مجموعی طور پر 94ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا جس میں صرف صدر کے تجارتی مراکز 77ارب روپے کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ دوسرے نمبر پر سائٹ انڈسٹریل اسٹیٹ اور منگھوپیر روڈ سے متصل سائٹ اسٹیٹ ایونیو کی سڑک پر واقع شورومز اور دکاندار ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر 6ارب روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا۔ کراچی میں امیر طبقہ کی پسندیدہ مارکیٹ دی فورم کی ایک عمارت میں واقع 202دکانوں نے تین ارب اکتیس کروڑ روپے کا ٹیکس ادا کیا۔ پاکستان کی سب سے بڑی اجناس کی تھوک مارکیٹ جوڑیا بازار کے 2ہزار 384تاجروں نے مجموعی طور پر تین ارب پانچ کروڑ روپے کا ٹیکس دیا۔ کراچی کی بہادرآباد کی مارکیٹ ایک ارب 8کروڑ روپے کی ادائیگی کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہی، کراچی کی لیاقت آباد کی غریب پرور مارکیٹ نے 99کروڑ35لاکھ روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، طارق روڈ کے تجارتی مراکز نے مجموعی طور پر 95کروڑ روپے کا ٹیکس ادا کیا اور ساتویں نمبر پر رہی، کراچی کا عبداللہ ہارون روڈ بازار گھریلو برقی آلات اور موبائل فونز کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں کے 856دکانداروں نے 76کروڑ58لاکھ روپے کا ٹیکس ادا کیا۔ پارک ٹاور کی پوش مارکیٹ ٹیکس کی ادائیگی کے لحاظ سے نویں نمبر پر رہی جس کے 132دکانداروں نے 62کروڑ18لاکھ ر روپے کا ٹیکس دیا۔ کراچی کی کمپیوٹر اور کمپیوٹر سے متعلق سامان کی سب سے بڑی مارکیٹ یونی سینٹر کے 220دکانداروں نے 59کروڑ 86لاکھ روپے کا ٹیکس دیا اور دسویں نمبر پر رہے۔
اتنا کچھ دینے کے باوجود آج اہل کراچی فراہمی و نکاسی آب اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے شدید عاجز ہیں- کراچی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر کے الیکٹرک کو ایک خون آشام درندے کے طور پر مسلط کر دی گئی ہے-
2010 میں وفاق میں پی پی پی کی حکومت اور پچھلے 50 سال سے زیادہ سندھ پہ قابض رہی ہے، 2010 میں پی پی پی نے ہی 18 ویں ترمیم کو وجود دیا کہ نہیں ہم اپنے اپنے صوبوں کو خود آسمان کی بلندیوں پر پہنچائیں گے اور آج یہ عوام کو ڈوبتا دیکھ ک خود بلکہ پوری سندھ حکومت منظر سے غائب ہے.
ذرا پوچھو تو ان سے کہ آخر تمھاری محرومی کا ذمہ داری ہے کون؟ ان سے صرف دس سال کے بجٹ کا ہی حساب مانگ لو اندازہ ہو جائے گا کہ ریاست دشمن ہے یا پیپلز پارٹی دشمن ہے. آج کراچی سمندر بن چکا ہے اربوں کھربوں روپے میں نالے تک صاف نہ ہو سکے؟
سندھ حکومت کا 2009 سے 2020 کا صوبائی بجٹ…. یہ بجٹ جان کر سندھ کے موجودہ حالات کا موازنہ سندھ کے بجٹ سے کر لیجیے کہ کیا سندھ کا کوئی بھی حصہ بشمول کراچی اس بجٹ سے مستفید ہو¿ا ہو گا؟
سندھ کا دس سالہ بجٹ…
2008-2009 268 ارب روپے
2009-2010 357 ارب روپے
2010-2011 422 ارب روپے
2011-2012 458 ارب روپے
2012-2013 577 ارب روپے
2013-2014 617 ارب روپے
2014-2015 686 ارب روپے
2015-2016 740 ارب روپے
2016-2017 870 ارب روپے
2017-2018. 1040 ارب روپے
2018-2019 1118 ارب روپے
2019-2020 1228 ارب روپے
2020-2021 1124 ارب روپے
ٹوٹل: 8300 ارب روپے
اس بجٹ میں نہ سندھ میں کوئی تبدیلی آئی، نہ اسکولوں کی حالت بہتر ہوئی، نہ صحت کی، بلکہ یہاں تک کہ ایک نالہ تک صاف نہ ہو سکا.
اس کل بجٹ میں ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات کچھ یوں ہیں.
2009-2010 97 ارب روپے
2010-2011 115 ارب روپے
2011-2012 161 ارب روپے
2012-2013 181 ارب روپے
2013-2014 185 ارب روپے
2014-2015 215 ارب روپے
2015-2016 214 ارب روپے
2016-2017 265 ارب روپے
2017-2018 244 ارب روپے
2018-2019 252 ارب روپے
2019-2020 280 ارب روپے
ٹوٹل: 2209 ارب روپے
جی صرف دس سال کا ترقیاتی بجٹ صرف 2209 ارب روپے. کونسی ترقی ہوئی؟ کراچی تیر رہا ہے، لاڑکانہ تیر رہا ہے، سکھر حیدر آباد کی حالت بدترین ہے بتائیں کیا ہوا ان میں؟
اس دس سالہ بجٹ میں غیر خرچ شدہ رقم:
2008-2009 21 ارب روپے
2009-2010 19 ارب روپے
2010-2011 30 ارب روپے
2011-2012 28 ارب روپے
2012-2013 92 ارب روپے
2013-2014 80 ارب روپے
2014-2015 44 ارب روپے
2015-2016 42 ارب روپے
2016-2017 35 ارب روپے
2017-2018 89 ارب روپے
2018-2019 101 ارب روپے
2019-2020 107 ارب روپے
یہ کل رقم ملا کر بن رہی ہے 688 ارب روپے جو غیر استعمال شدہ ہے یعنی ہر سال سندھ حکومت جو بجٹ خرچ کرتی ہے اس میں یہ رقم خرچ ہی نہیں ہوئی کہاں گئی اللّ ہی جانے.
یہ ہے سندھ حکومت کا 18 ویں ترمیم اور صوبوں کو اختیارات منتقلی کے بعد کا بجٹ اس میں بڑا حصہ وفاق ہی فراہم کرتا رہا ہے. اس بجٹ میں ڈاکٹر عاصم کی 460 ارب اور خورشید شاہ کی َ500 ارب کی کرپشن بھی شامل ہے.
آج لوٹ مار کر کے کھانے والا ایک بھی شخص کراچی میں نظر نہیں آ رہا. سارا شہر ڈوب رہا ہے مگر نہ بھٹو ہے نہ بھٹو کے چیلے چپاٹے. پھر وہی فوج ہے وہی رینجرز ہیں جو گالیاں سن کر برا بھلا کہلوا کر پھر اپنی عوام کی خدمت کے لیے پہنچ جاتے ہیں.
اس سلسلے میں کراچی آج کل سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے جہاں انتہائی مفید پوسٹیں گردش کر رہی ہیں – ان میں ایک پوسٹ کا جائزہ ملاحظہ فرمائیں-
بدقسمتی سے ہماری سندھی سیاسی قیادت شاید یہ چاہتی ہے کہ سندھ دھرتی پر کوئی زندہ رہے یا نہ رہے مگر ”بھٹو“ زندہ رہے
اس بھٹو کو زندہ رکھنے کے لیے دوریوں کی جو خلیج سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں ہماری سندھی قیادت بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر نے پیدا کی ہے وہ بہت خطر ناک ہے۔آج بھٹو کی نسل سے توکوئی قابل ذکر شخصیت باقی نہیں رہی مگر بھٹو زندہ ہے۔
ہمارے بعض قوم پرست لیڈر چاہتے ہیں کہ سب سندھی بن جائیں چاہے نئے سندھی ہی کیوں نہ کہلائیں، وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ سندھ تقسیم نہ ہو۔ مگرسندھ کی تقسیم کی بنیاد تو پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ہی رکھ دی تھی، دیہی سندھ اور شہری سندھ دراصل سندھ کی تقسیم ہی تو تھی۔
سندھ کے شہری علاقوں کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ کوٹہ سسٹم کے معماروں کے ذہن میں یہ بات لازماََ رہی ہو گی کہ جب کوٹے کے مقاصد حاصل ہو جائیں تو اِس کو ختم کر دیا جائے گا، لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا، کوٹہ سسٹم کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں محض 7% افراد اہلیت کی بنیاد پر لئے جاتے ہیں باقی ”کوٹہ سسٹم“ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں جب انتہائی اہمیت کی حامِل سرکاری نوکریوں پر تقرری کی کسوٹی محض ڈومیسائل بنا دیا جائے تو پھر اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کہاں جائیں گے؟چلیں کچھ عرصہ کسی مصلحت کی خاطر یہ کڑوے گھونٹ پی بھی لئے جائیں تو بھی آخر کب تک؟
کوٹہ سسٹم کو وفاقی شرعی عدالت اور پاکستان سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دے رکھا ہے، 1973 میں کوٹہ سسٹم کو جو آئنیی تحفظ فراہم کیا گیا تھا وہ خود اِسی آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ اصولی بات ہے کہ جب آپ بہت ذمہ داری کی جگہ پر ایک نااہل شخص کو بٹھا دیں گے تو اول تو وہ خود احساسِ کمتری کا شکار ہو گا، دوم اپنے ماتحتوں کے زیرِ اثر ہو گا، یہیں سے بگاڑ کا آغاز ہوا ہوتا ہے، رشوت بد عنوانی خدا داد نہیں بلکہ اسی موذی ”کوٹہ سسٹم“ کی دین ہے، شہری سندھ کا ڈومیسائل لینا نہایت آسان ہے۔ کراچی اور حیدرآباد کے حکومتی اداروں میں جانے کا مشاہدہ کیجیئے تو شاذ و نادر ہی اردو بولنے والے سندھی نظر آئیں گے، نجی شعبہ کی ترقی سے کسی حد تک اردو بولنے والےسندھیوں کی معاشی بقا ممکن ہوپائی، مگر اس کے باوجود انہیں ہر جائز کام کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ مقامی حکومتوں کا نظام کراچی جیسے بڑے شہروں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ جماعتِ اسلامی کے نعمت اللہ خان صاحب کادور مثالی سمجھاجاتا ہے، ان کے دورِنظامت میں کئی ترقی یافتہ کام ہوئے، اس کے بعد مصطفی کمال کے دورِ نظامت میں بھی شہر میں کئی ترقیاتی کام تکمیل پائے، سندھ پبلک سروس کمیشن کے گیارہ ارکان میں شہری سندھ سے کوئی نمائندگی نہیں، یہ ہی وہ خوفناک صورتحال ہے اسے فی الفور ختم ہوجانا چاہیئے۔ کوٹہ سسٹم نے سندھ کے دیہی علاقوں کو مزید مشکلات کا شکار کردیا ہے، لوگ کوٹہ نظام سے مستفید ہونے کے باوجود کام شہر میں کرنا پسند کرتے ہیں، کئی ہزار اسکول دیہی سندھ میں محض کاغذ پر ہیں، ان میں تعینات اساتذہ کی اکثریت کا تعلق دیہی سندھ سے ہے، ایسے اساتذہ ہزاروں کی تعداد میں سندھ حکومت سے تنخواہ لینے کے باوجود کام نہیں کرتے جبکہ نقل کا رجحان بھی پاکستان بھر میں سب سے زیادہ سندھ میں ہے۔
دو نسلیں گزرچکی ہیں اور صوبہ ابھی بھی مجموعی طور پر پسماندہ اور زیادہ تر کرپشن کا شکار ہے۔
چیف منسٹر ہاوس، سندھ سیکریٹریٹ نمبر 1-2-3-4 – سندھ سیکرٹیریٹ سے جڑے تمام ڈپارٹمنٹ میں 1 سے 15 گریڈ کے ۹۹ فیصد لوگ غیر مقامی بھرتی کیئے گئے یہی حال17 سے 21 گریڈ کے افسران کا ہے 99 فیصد غیر مقامی ہیں – ہائیکورٹ، سٹی کورٹ و دیگر ڈسٹرک کورٹ میں 80 فیصدی ملازم غیر مقامی بھرتی کیئے ہیں جبکہ ججز 95 فیصد غیر مقامی ہیں کے ایم سی کراچی، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، واٹر بورڈ کے ڈی اے، ڈی ایم سیز میں 30-40 فیصد ملازم و افسران غیر مقامی بھرتی کیئے ہیں محکمہ ہیلتھ سمیت تمام کراچی کے ہسپتالوں میں 1 سے 17 گریڈ پر 85 فیصد غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کیا گیاہے۔ ایسے محکمے جس کے نام میں کراچی آتا ہے کے ایم سی، کے الیکٹرک، کراچی پولیس لائن سمیت کراچی میں واقع سارے صوبائی اور وفاقی دفاتر سوئی گیس، کسٹم، نادرا، ایف آئی اے، پاسپورٹ سمیت دیگر تمام ڈپارٹمنٹ میں 80فیصد سے زائد ملازمین غیر مقامی ہیں۔
آج کراچی کا واٹرسپلائی،کراچی کا پراپرٹی ٹیکس، کراچی کی گاڑیوں کا ٹیکس،کراچی کی ہر چیز کا انچارج لاڑکانہ نواب شاہ, خیر پور, دادو یا سہون کارہائشی ہے۔کراچی کا کچرا تک اٹھانے والےڈپارٹمنٹ سالڈ ویسٹ بورڈ کراچی آفس میں 90 فیصد ملازم اندرون سندھ کے مختلف اضلاع کے ہیں، ان تمام محکمہ جات میں غیر مقامی ملازموں کی تعلیم میٹرک انٹر اور گریجویشن انجینئرنگ میڈیکل وغیرہ سب میں پی آر سی ڈومیسائل انکے اپنے مقامی ضلعوں اور تحصیلوں کے ہیں یعنی تعلیم اپنے علاقائی ڈومسائل سے کی ہے پھر یہ کراچی میں ملازمت کیسے کررہے ہیں؟؟؟
کیا اپنے ضلع اور تحصیل کے ڈومیسائل پر کراچی میں ملازمت کر رہے ہیں؟
یا کراچی کا جعلی ڈومسائل بنوا یا ہوا ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ملنے بہت ضروری ہیں۔بصورت دیگر غیر مقامی لوگوں کو آئین اور سروس رول کی خلاف ورزی پر سزا دی جائے اور ان کی جگہ قانونی حقدار مقامی لوگوں کو ملازمت میں رکھا جائے۔
تقسیم برصغیر کے بعد مہاجروں کو سندھ میں کھلے بازﺅں سے خوش آمدید کہا گیا‘ اور کشادہ دل سندھی عوام نے انصار مدینہ کی یاد تازہ کی مگر کراچی‘ حیدر آباد اور سکھر میں مہاجروں کے ارتکاز نے سندھ کے سیاسی وڈیروں کو پریشان کر دیا۔ اندرون سندھ عوام کا استحصال کرنے والے میروں‘ پیروں اور جاگیرداروں کو پسند نہ آیا کہ مہاجر اور سندھی عوام باہمی اخوت کو فروغ دیں، انہیں احساس ہوا کہ مہاجروں کی اگلی نسل ان غریب‘ پسماندہ‘ ان پڑھ و نیم خواندہ‘ اپنے حقوق سے لاعلم اور محروم سندھیوں سے گھل مل گئی تو شہری علاقوں کی طرح دیہی حلقے بھی ان کی مضبوط گرفت سے نکل سکتے ہیں، یہی وجہ تھی کہ ”شوگر کوٹڈ“ کوٹہ سسٹم کا نفاذ کرکے شہری‘ دیہی اور مہاجر‘ سندھی کے مابین نفرت و اختلاف کا بیج بویا گیا،مختصر عرصہ کے لیے کوٹہ سسٹم کا نفاذ قابل اعتراض نہ تھا۔ انگریز نے بھی اعلیٰ ملازمتوں میں اس کا اہتمام کیا، بھارت نے نچلی ذات کی اقلیتوں کے لیے اسے جاری رکھا مگر اسے نسلی اور لسانی بنیادوں پر رائج کرنا اور غیر معینہ مدت تک جاری کرنا نا عاقبت اندیشی ثابت ہو چکا ہے۔ اس سے قبل کہ سندھ کے شہری علاقوں سے اٹھنے والی آواز “کوٹہ سسٹم نہ کھپے“
ملک کے طول و عرض میں پھیل جائے اور پیپلز پارٹی کی سیاست کی بساط ہمیشہ کیلئے سندھ سے بھی لپیٹ دی جائے حکمرانوں کو چاہیئے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور کوٹہ سسٹم کی وبا کو سندھ سے ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کریں
سوشل میڈیا پر ایک اور معلوماتی اور فکر انگیز پوسٹ عبدالکلیم کی بعنوان ” میں نے کراچی ڈوبتا دیکھا” تھی- وہ لکھتے ہیں
اگست کراچی والوں کے لیے ایک ایسا مہینہ ثابت ہوا ہے جسے کراچی کے باسی کبھی بھول نہیں سکتے. کراچی شہر پاکستان کے ساحل سمندر پر موجود ہے لیکن میں نے پہلی بار کراچی شہر کو سمندر کا حصہ دیکھا. میں نے دیکھا کراچی کی شاہراہیں نہروں کا منظر پیش کر رہی تھیں اورکراچی کی انتظامیہ محو تماشا بنی ہوئی تھی. کراچی کی تباہی کوئی ایک یا دو سال میں نہیں ہوئی کراچی کو تباہی کے دہانے تک لانے میں کئی سال لگے ہیں. 1984سے پہلے کراچی امن کا شہر تھا روشنیوں کا شہر تھا علم کا شہر تھا ادبی سرگرمیاں ہوتی تھیں. کراچی پاکستان کا دبئی تھا یہاں لوگ دوردراز سے آتے تھے. کراچی کی خوبصورت زندگی کو انجوائے کرتے تھے کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت بھی رہ چکا ہے اور کراچی ابھی بھی پاکستان کے ایک صوبے صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے. پورے صوبے کو کراچی سے بیٹھ کر چلایا جاتا ہے لیکن کراچی کی بد قسمتی ہے کہ یہ شہر ہر حکومت میں سیاست کی نظر رہا ہے اور ہر حکومت نے اس کو سیاسی اختلاف کی وجہ سے نظر انداز کیا ہے ۔کبھی کسی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا ہرحکومت نے اس شہر کوسوتیلا سمجھا حالانکہ کراچی پاکستان کا معاشی ہب ہے پورٹ سٹی ہونے کی وجہ سے پاکستان کا سارا معاشی دارومدار کراچی پر ہے. پاکستان کی ساری تجارت کراچی پورٹ سے ہوتی ہے اس لیے کراچی کی ملک میں باقی شہروں کی نسبت زیادہ اہمیت ہے
اس شہر کی بربادی سیاسی نظریات کی وجہ سے ہوئی ہر حکومت نے اس شہر کو اپنے طور پر چلانے کی کوشش کی. میں زیادہ تاریخ میں نہیں جاتا 1984 میں ایم کیو ایم کی بنیاد پڑی کیونکہ یہ ایک لسانی بنیاد پرسیاسی جماعت بنائی گئی تھی اس لیے پہلا کیل اس شہر کی بربادی میں اس وقت ٹھونکا گیا. اس طرح اس شہر کی بربادی لسانی بنیاد سے شروع ہوگئی. بانی ایم کیو ایم کوایک دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا اس نے کراچی میں لسانی بنیاد پر بہت خون بہایا ہر دور کی حکومت تماشا دیکھتی رہی پھر بعد میں 1992 میں نواز شریف کی حکومت میں کراچی میں ایک بڑا آپریشن شروع ہوا جس کا نام آپریشن کلین اپ تھا. یہ آپرشن ایف آئی اے اور آئی بی کی رپورٹ پر شروع ہوا جس میں 23500 لوگ مارے گئے جس میں 1000 لوگ گورنمنٹ کے تھے. 29350 لوگ زخمی ہوئے. اس آپریشن میں بے شمار لوگ ایم کیو ایم کے ملک سے باہر بھاگ گئے بانی ایم کیو ایم ابھی بھی ملک سے باہر ہیں.
پھر یہ ہوا 1988 سے لیکر 1999 تک پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی یہ دونوں پارٹیاں باریاں لیتی رہیں اور کراچی برباد ہوتا رہا حکومتیں تماشا دیکھتی رہیں اور پھر 1999 سے 2008 تک اس شہر کو دوبارہ ایم کیوایم کے حوالے کیا گیا.
اس دوران ایم کیوایم نے کراچی میں دو کام کیے ایک تو کراچی میں خوب کام کرائے پل سڑکیں بنیں. لیکن ساتھ میں جو دوسرا کام کیا وہ بھتہ مافیا بوری بند لاشیں ٹارگٹ کلنگ لینڈمافیا کچرا مافیا پانی مافیا میڈیا پر وار کراچی میں ایسی خوف کی فضا بنائی گئی ہر بندہ ایم کیو ایم سے خوف کھانے لگا. ایم کیو ایم ایک دہشت کی علامت بن چکی تھی روزانہ کی بنیاد پر لوگ مرنا شروع ہو گئے ایم کیو ایم کے دیکھا دیکھی باقی سیاسی پارٹیوں نے بھی ملیٹنٹ ونگ بنا لیے کراچی میں گینگ وار کا دور شروع ہوا.
2008 سے2013 تک پیپلز پارٹی کی حکومت رہی پیپلز پارٹی نے بھی ایم کیو ایم کو بہت فری ہینڈ دیا ایم کیو ایم وفاق میں پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت تھی اس دور میں ایم کیو ایم نے خوب فائدہ اٹھایا. پیپلز پارٹی کے پورے دور میں ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو بلیک میل کرتی رہی ان پانچ سالوں میں بھی کراچی جلتا رہا کوئی کام نہیں ہوا نہ کراچی کی عوام کوسکون ملا بلکہ کراچی کی عوام ان پانچ سالوں میں بھی لٹتی رہی اس دوران کراچی میں تین پارٹیاں ہوتی تھیں پیپلز پارٹی ،اے این پی،ایم کیو ایم لیاری میں امن کمیٹی تھی لیاری میں کچھی اور بلوچ آپس میں لڑتے تھے. لیاری گینگ وار میں بابا لاڈلا عزیر جان بلوچ یہ اہم لوگ ہوتے تھے. ان کو ایم کیو ایم کے ساتھ بھی مسئلہ تھا. اس دوران پختون اور اردو سپیکنگ کی لڑائی رہتی تھی.
کراچی میں ہر طرف جنگل کا قانون تھا نو گو ایریاز تھے لوگ خوف میں جی رہے تھے. بانی ایم کیو ایم کا طوطی بولتا تھا. ایم کیو ایم جب چاہے کراچی بند کر دیتی تھی. جب بھی کراچی بند ہوتا تھا تو ملک کو نقصان ہوتا تھا. کراچی میں کچرے کے انبار لگتے رہے نہ نالوں کی صفائی ہوئی بلکہ نالوں میں قبضہ مافیا کا راج ہو گیا. نالوں پر لوگوں نے گھر بنانے شروع کر دیے اور نالے بند ہونا شروع ہوگئے. لوگوں نے ناجائز قبضے کیے تجاوزات کا دور شروع ہوا. سیاسی پارٹیوں نے کام کی بجائے لوٹ مار شروع کردی، کراچی جلتا رہا حکومت نیرو کی طرح بانسری بجاتی رہی اور تماشا دیکھتی رہی۔
2013سے 2018 تک ن لیگ کی حکومت رہی نواز شریف کی حکومت نے آتے ہی کراچی والوں کے بارے میں سوچا کراچی میں لاءاینڈ آرڈر کی بہت بری صورتحال تھی تو حکومت نے رینجر کی مدد سے آپریشن شروع کیا. حکومت اور جنرل (ر) راحیل شریف کی بدولت کراچی کی عوام نے سکون کا سانس لیا. کراچی کے حالات بدلنا شروع ہوئے زندگی واپس آئی پھر ہم نے دیکھا لوگوں نے جنر ل (ر) راحیل شریف کے نام کے بینرز لگائے پاکستان آرمی سے محبت کا اظہار کیا کراچی میں بھتہ مافیا ٹارگٹ کلنگ کا خوف ختم ہوا بند کاروبار واپس آئے پاکستان ترقی کی طرف چل پڑا لیکن کراچی میں کام صوبائی حکومت نے کرنا تھا سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت تھی اس لیے صفائی کچرااٹھانا اور نالوں کی صفائی نالوں پر لینڈمافیا کا قبضہ ختم کرانایہ سب کام صوبائی حکومت کے تھے. کراچی بری سیاست کی نظر ہوتا رہا پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور میں کراچی میں کوئی کام نہیں ہوا.
2018 میں عمران خان کو مینڈیٹ ملا لیکن عمران خان بھی کراچی کے لیے کچھ نہ کر سکے عمران خان صاحب کہتے ہیں کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبہ آزاد اور خود مختار ہے اور سارے اختیارات صوبے کے پاس چلے جاتے ہیں اور وفاق کچھ بھی نہیں کر سکتا. سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اس لیے کراچی میں کام کرنا سندھ حکومت کا کام ہے اس طرح کراچی کو تحریک انصاف نے بھی لاوارث چھوڑ دیا ہے. اب جو بارش کی صورت میں کراچی میں آفت آئی ہوئی ہے اس سے کراچی والوں کو اللہ ہی نکال سکتا ہے. صوبائی حکومت اور وفاق دونوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں. جب سے آفت آئی ہے بلاول بھٹو صاحب بھی غائب ہیں کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی. کراچی علاقہ غیر بنا ہوا ہے کراچی کی بربادی پر ہر پارٹی سیاست کر رہی ہے عوام کا کوئی نہیں سوچ رہا. جہاں تک پاک آرمی کا تعلق ہے جب بھی کراچی والوں پر مصیبت آئی پاک آرمی نے ان کو نکا لا چاہے وہ لاءاینڈ آرڈر ہو نالوں کی صفائی ہو سیاسی جماعتیں تماشائی بن کر دیکھتی رہیں اور پاک آرمی کراچی والوں کی خدمت کرتی رہی. حالانکہ یہ کام پاک آرمی کا نہیں ہے. جس طرح کراچی میں ماضی میں لاءاینڈ آرڈر پر صوبائی حکومت نے کام کیا با لکل اسی طرح جو نالوں کی صفائی ہے اور جو کچرا اٹھا نا یہ انتظامی معاملہ ہے جو خالص صوبائی معاملہ ہے اور صوبائی حکومت کا کام ہے کہ کراچی کو اپنا شہر سمجھے اور کام کرے نہ کہ اس کے لیے وفاق سے الجھا جائے اور معاملات کو طول دیا جائے جس میں صرف اور صرف کراچی کے شہریوں کا نقصان ہے اور حاصل کچھ نہیں ہے میری اللہ سے دعا ہے اے اللہ کراچی کے لوگوں پر رحم فرما آمین۔۔
29 اگست کو روزنامہ ڈان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر فہد حسین نے کراچی کا نوحہ بعنوان ” ’کراچی بہتر کا مستحق ہے، بلکہ بہت بہتر کا‘ کچھ یوں لکھا-
شہرِ کراچی میں آنے والے شدید سیلاب نے بہت کچھ بے نقاب کردیا ہے مگر یہاں کام کرنے اور نہ کرنے سے متعلق عدم استحکام سے متعلق پالیسی زیادہ واضح ہوچکی ہے۔
اس لیے یہ حالات یقینی طور پر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتے ہیں، بلکہ ہونے چاہئیں۔
لیکن کیسے؟
ہمیں بار بار یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ کراچی کے مسائل بہت زیادہ گھمبیر ہیں، جو محض نالوں کی صفائی یا ایک مکمل بااختیار میئر کی تعیناتی سے حل نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان مسائل کی جڑیں بے تحاشہ تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، سیاسی مفادات اور اداروں کے درمیان کشیدگی کے نیچے دب چکی ہیں۔
مختصر یہ کہ کوئی بھی حکومت تنِ تنہا ان مسائل کو حل نہیں کرسکتی۔ اس کا نتیجہ کئی دہائیوں سے اس بحث کی صورت نکل رہا ہے کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اس بارے میں بات ہوتی ہے کہ اب تک یہ سب کیوں نہیں کیا جاسکا۔
لیکن اب ان حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر اس بحث کو گرما دیا ہے۔
بارش کے بعد کھڑے اس پانی نے تازہ سیاسی اور انتظامی مفادات کے لیے زبردست ماحول بنادیا ہے۔ اب یہاں روایتی طرزِ حکمرانی کو جاری رکھنے اور اس کی دلیل دینے والے کم کم نظر آئیں گے۔ اور اگر ایسا کرنے والے نظر آئے بھی تو ان کی بات کو اب زیادہ اہمیت نہیں دی جائے گی۔ یعنی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کمزور ہوگی اور اصلاحات سے متعلق راستے ہموار ہوتے چلے جائیں گے۔
ہمیں یہ کہہ لینا چاہیے کہ کراچی نے اپنی تبدیلی کے لیے خود راستہ تلاش کرلیا ہے۔ تمام ادارے اس شہر کی ترقی کے لیے اصلاحات لانے اور اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔
یہ سب کچھ محض اس بنیادی نقطے سے شروع ہوسکتا ہے کہ اب معاملات کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ فیصلہ اس اصول کی بنیاد پر لیا جاسکتا ہے کہ جوائنٹ ایکشن ٹیم مل بیٹھ کر اس پوری صورتحال کا جائزہ لے گی۔ یقینی طور پر اس پر عمل ہرگز اتنا آسان نہیں جتنا یہ سب کچھ کہنا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اس پوری صورتحال میں اپنی آئینی پوزیشن کا دفاع کرے گی، کیونکہ جب اس شہر میں ان اصلاحات کو نافذ کرنے کی بات آئے گی تو بظاہر سارے اختیارات اسی جماعت کے پاس ہیں۔
اگرچہ 14 ممبر قومی اسمبلی کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بھی اس شہر کی ایک اسٹیک ہولڈر ہے، لیکن چونکہ وہ وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے صوبے میں ان کا کردار بس مشاورتی سطح تک ہی محدود رہے گا۔
جہاں تک بلدیاتی نظام اور حکومت کی بات ہے تو یہ ایک بیکار نظام ہے، اور ویسے بھی اس شہر کے میئر جمعے کی رات پانی میں ڈوبے ہوئے کراچی کو الوداع کہہ چکے۔
پھر اس شہر میں ایک اور بڑا مسئلہ متعدد نظام، حکام اور بورڈز کی موجودگی ہے، جس کی وجہ سے کوئی ایک ایسا فرد نہیں جو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے آگے بڑھے اور ان سے جان چھڑائے۔
ان حالیہ تباہ کن بارشوں سے پہلے ایک کمیٹی قائم ہوئی تھی، جس کے سربراہ وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ مقرر ہوئے تھے اور اس کمیٹی میں پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اراکین بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی میں شامل نمائندوں کی یہی ذمہ داری تھی کہ وہ اس شہر کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔ لیکن وزیرِاعلی سندھ مراد علی شاہ نے واضح طور پر یہ بیان کردیا تھا کہ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد کسی بھی طور پر مشترکہ حکمرانی جیسا کوئی اصول نہیں ہے۔ اس حوالے سے مکمل اختیار صوبائی حکومت کو ہی حاصل ہے۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد سیاسی رکاوٹوں کو د±ور کرنا ہے، جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ اس کمیٹی کا قیام خود اپنے طور پر نہیں ہوا، اور ویسے بھی سیاسی طور پر تقسیم جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں وہاں ایسا خود سے ہونا ممکن بھی نہیں۔ بلکہ اس کمیٹی کا بننا اس طرف اشارہ کررہا ہے کہ اگر کراچی میں کام کرنے کے لیے کبھی بھی ضرورت پڑی تو اس قسم کے اسٹریٹجک فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔
پھر اگر کراچی کو بچانے کے لیے ایسا کوئی پلان موجود بھی ہے تو کسی بھی طور پر وہ کام چلاﺅ یا عارضی طور پر مسائل کو حل کرنے جیسا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ درحقیقت وہ ایسی مشترکہ کاوش ہونی چاہیے جو موجودہ سیاسی اور آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام کرے۔ ایک ایسی کمیٹی جو تمام معاملات کو حل کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔
اس کمیٹی کو ایک نام دیا جائے اور پھر اس حوالے سے معاملات کو طے کیا جائے کہ یہ کس طرح صوبائی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کرے گی۔
اس کمیٹی کی سربراہی وزیرِاعلی مراد علی شاہ کریں اور اس میں محض پی ٹی آئی یا ایم کیو ایم کے افراد کو شامل نہیں کیا جائے بلکہ ہر اس جماعت کو شامل کیا جائے جس کی اس شہر میں نمائندگی موجود ہے۔
مزید آگے بڑھ کر اس کمیٹی کو یہ بھی اختیار ہونا چاہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر فوج کو بھی بلاسکے۔ ساتھ ساتھ تکنیکی ماہرین اور مشیران کو بھی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ درحقیقت اس کمیٹی کو مندرجہ ذیل بیان کیے جانے والے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
مقامی حکومت سے متعلق ایسے نظام پر کام کیا جائے جس پر سب کا مکمل اتفاق ہو اور پھر اس متفقہ نظام کو اسمبلی سے منظور کروانے کے لیے کوششیں کی جائیں۔
ایک ایسے انتظامی اسٹرکچر کے قیام کی کوشش کی جائے جس میں شہر کی تمام اتھارٹیز اور کام کرنے والے مختلف نظاموں کو ایک چھتری تلے کرکے اس کا اختیار میئر کو دے دیا جائے۔
اس بات پر غور کیا جائے کہ کس طرح اصول و ضوابط میں رہتے ہوئے ڈی ایچ اے اور دیگر کینٹونمنٹ بورڈز کے معاملات کو نمٹایا جائے۔
شہر سے تمام تجاوزات کے خاتمے سے متعلق بھرپور پلاننگ کی جائے جن کی وجہ سے شہر میں پانی کھڑے رہنے کے مسائل درپیش ہیں۔ ساتھ ساتھ اس حوالے سے بھی کام کیا جائے کہ تجاوزات کے خاتمے کے نتیجے میں جو لوگ بے گھر ہوں گے ان کے لیے کیا انتظام کیا جائے گا، چاہے وہ زمین دینے کی صورت میں ہو یا پھر رقم۔
ایک ایسی پالیسی مرتب کی جائے جس کی مدد سے مقامی اداروں میں موجود اضافی افراد کو فارغ کرنے سے متعلق سیاسی مسائل کو د±ور کرنے کے لیے کوشش کی جائے۔
تجاوزات کے خاتمے کے بعد پانی کی نکاسی کس طرح ممکن ہوسکے گی، اس حوالے سے بلیو پرنٹ کی تیاری پر زور دیا جائے۔
شہر سے کچرا اٹھانے اور اس کو ٹھکانے لگانے سے متعلق بھی فیصلہ کیا جائے اور اس حوالے سے ضروری مشینری کے انتظام پر بھی غور کیا جائے۔
پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کا قیام لازمی بنایا جائے جس میں کراچی سرکلر ریلوے، گرین لائن اور دیگر نظام شامل ہونے چاہئیں۔
بلڈنگ کنٹرول سے متعلق قوانین میں ریفارمز کے لیے کوششیں کی جائیں تاکہ مستقبل میں شہر ترتیب شدہ طریقے سے آگے بڑھے۔
ان سارے کاموں کی انجام دہی کے لیے صوبائی اور وفاقی بجٹ سے کس طرح رقم لی جاسکتی ہے، اس پر بھی کام کیا جائے۔
سچ بات کی جائے تو ایسی سیکڑوں وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں کسی پر بھی عمل نہیں ہوگا، لیکن ساتھ ہزار ایسی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ان پر عملدرآمد کیوں ضروری ہے۔
ہمیں یہ کہہ لینا چاہیے کہ کراچی نے اپنی تبدیلی کے لیے خود راستہ تلاش کرلیا ہے۔ تمام ادارے اس شہر کی ترقی کے لیے اصلاحات لانے اور اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔
اس وقت ریاست کا جھکاﺅ کراچی کی جانب ہے، اور اگر یہ چھکاﺅ ٹھیک نکات کے ساتھ ٹھیک وقت پر ٹھیک وجوہات کے لیے ہوا تو یہ ان تمام قوتوں کو شکست سے دوچار کردے گا جو کراچی کو بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ساتھ یہ جھکاﺅ شہر کی تمام قوتوں کو ایک چھت تلے لانے اور مل بیٹھ کر ان مسائل کو تیزی کے ساتھ حل کرنے کے لیے قائل کرسکتا ہے۔
اس وقت شہر میں مایوسی، غصے اور امید کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ ہر شہری کہنے پر مجبور ہوچکا ہے کہ بس، اب بہت ہوا۔ کراچی اس سے بہتر کا مستحق ہے، بلکہ بہت بہتر کا۔
اب وقت آگیا ہے کہ تبدیلی لائی جائے، پھر چاہے وہ کچھ بھی ہو، لیکن اگر حکمت عملی بنانے والے ٹھیک سوچ رہے ہیں تو پھر وہ گورنر راج یا کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے جیسے فضول خیالات سے د±ور رہتے ہوئے ایسی زبردست ریفارمز لائیں گے جو کراچی کو پاکستان کی ترقی کے لیے بطور انجن تیار کردیں گے۔”
پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت کرتے ہوئے متواتر 12 سال مکمل ہو چکے ہیں- ان 12 سالوں میں پیپلز پارٹی 5 سال تک وفاق میں بھی براجمان رہی ہے اور ان 5 سالوں میں اس نے صرف اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے 18 ویں ترمیم کا اطلاق کیا اور ان کی حکومت میں اس ترمیم کا فائدہ یہ اب بھرپور انداز میں اٹھار ہےہیں- بلاشرکت غیرے اقتدار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی نے کراچی کو لوٹمار کا وہ مرکز بنا دیا ہے جس سے صرف پیپلز پارٹی ہی فائدہ اٹھا رہی ہے- اس کے وزرا کھرب پتی بن چکے ہیں اور کراچی سمیت سندھ کے تمام علاقہ مفلوک الحال ہیں-
کراچی اس وقت اندرون سندھ کے وڈیروں کی ایسی راج دھانی بن چکا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر یہاں سے کروڑوں روپے لوٹ کر بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں- جس کی مثال انور مجید اور آصف زرداری کی مبینہ اربوں روپے لانڈرنگ کا نیب کیس ہے جس سے بچاو¿ کے لئے پیپلز پارٹی کہیں جئے سندھ کی آواز لگا کر جان چھڑانے کی کوشش کر رہی ہے تو کہیں متحدہ حزب اختلاف کا پریشر ٹول بنا کر مقتدر قوتوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے-
آج کراچی کا مقامی باشندہ اپنے ہی شہر میں اجنبی ہے، 99 فیصد ملازمتیں غیرمقامیوں کر انہیں اپنے ہی شہر سے بے گانہ کر دیا گیا ہے- پیپلز پارٹی کی چالاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی سطح پر یہ پارٹی خود کو وفاق پرست کہہ کر جنوبی پنجاب اور ہزارہ ڈویڑن کو صوبہ بنانے کی زبردست حمایتی ہے تو دوسری طرف انتظامی طور پر سندھ کو مختلف یونٹس میں تقسیم کرنے کی بات پر ہی آپے سے باہر ہو جاتی ہے کیونکہ اندرون سندھ کے ان وڈیروں کو پتہ ہے کہ ان کی حرام کمائی کا مرکز ہی کراچی ہے اور وہ ایک عام سندھ کو قومیت کے نام پر بے وقوف بنا کر صرف اپنی جھولیاں بھر رہے ہیں اور کراچی سمیت سندھ کا ہر شہری ان کے استحصال کا شکار ہے جس کا واضح ثبوت پورے سندھ کی ناگفتہ بہ حالت ہے-
اب حالات یہ ہیں کہ کراچی کے معاملات ناقابل برداشت حد تک خراب ہوچکے ہیں- پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ جتنی لوٹ مار کر چکے ہیں اس کو غنیمت جانیں اور کراچی سمیت پورے سندھ میں آئندہ تین سالوں میں ایسا کام کریں کہ کل کراچی کا باشندہ بھی پیپلز پارٹی کو اپنی پارٹی سمجھ کر ووٹ دے کیونکہ اہل کراچی ایم کیو ایم سے بھی زخم کھا چکے ہیں اور اب پی ٹی آئی سے بھی ان کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں- اس لئے پیپلز پارٹی اگر واقعی کراچی کی بہتری کے لئے کوئی صدق نیت سے کام کرتی ہے تو پھر اہل کراچی کو پیپلز پارٹی سے مخالفت رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی- اب پیپلزپارٹی پر منحصر ہے کہ وہ کراچی کی بے چینی کا ادراک کرتے ہوئے اپنی طرز حکمرانی کا مثالی بنانے کی کوشش کرتی ہے یا پھر وہی لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھے گی، لیکن لوٹ مار کو سلسلہ مستقل جاری نہیں رہ سکتا اس کی بنیاد پر کوئی بھی نقب لگائی جا سکتی ہے جو ان کے موجودہ طرز حکمرانی کے خلاف کسی کو مداخلت کا موثر جواز فراہم کر سکتی ہے-
﴾﴿

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*