پاکستان کا سب سے بڑا دشمن…….

پاکستان کا سب سے بڑا دشمن…….
آج تک ہم سوچتے آئے ہیں کہ بھارت پاکستان کا سب سے ازلی دشمن ہے، امریکا ، روس، برطانیہ، اسرائیل، یہود، ہنود و نصاری ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں- ہماری ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے والے، پاکستان کو روئے زمین سے مٹانے کی کوشش کرنے والے لیکن صرف اللہ کی ذات نے اس ملک پاکستان کا تحفظ کیا ہے اور کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا-یہ باتیں ہر پاکستانی نے سنی ہوں گی اور اب تک سنتے چلے آ رہے ہیں اور آنکھیں بند کئے، بغیر سوچے سمجھے کب تک سنتے رہیں گے اور یقین کرتے رہیں گے- مذکورہ بالا بات میں کم از کم ایک بات تو برحق ہے کہ صرف اللہ کی ذات ہی ہے کہ اتنے دشمنوں کی موجودگی میں اس ملک کا قائم و دائم رکھا ہوا ہے ورنہ دنیا میں سب سے پہلے وہی قومیں جلد دفن ہوئی ہیں جنہوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی قبریں کھودی تھیں-لیکن!سب سے بڑا سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن خود پاکستانی ہے- اپنی پیدائش سے لے کرپاکستان کے زوا ل کا سفر جو شروع ہوا ہے وہ اب تک جاری ہے اور پاکستانی پر حکمرانی جمہوریت لیوا کی رہی ہو یا آمریت کی، پاکستان کی ترقی کا ریورس گئیر کبھی نہیں رکا اور ہو گزرتے دن ترقی و کامیابیوں کے آسمان چھو رہی ہے اور پاکستانی قوم بنیادی سہولتوں پانی، بجلی، گیس، سڑکیں ، سیوریج، پارکوں، سرکاری تعلیم و صحت سے محروم ہوتی جا رہی ہے، وہ افراد جن کی عمریں لگ بھگ 50 سال کی ہیں ان کا اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گا کہ کس طرح انہوں نے کبھی بجلی کا تعطل نہ دیکھا تھا، پانی کی کمی کا رونا نہ تھا، ٹرانسپورٹ سسٹم اس دور کے حساب سے بہتر تھا بلکہ آج کراچی کی سڑکوں پر وہی 50،60 پرانی بسیں ہی چل رہی ہیں، پاکستان کی کرنسی کہاں تھی اب کہاں پہنچ گئی ہے، چین 70 سال پہلے افییمیوں کا ملک ہوا کرتا تھا وہ اب کہاں پہنچ گیا ہے، جاپان دوسری جنگ عظیم سے تباہ ہو کر محکوم اور سرنگوں قوم بن چکا تھا لیکن 25 سال بعد ہی اس نے خود ٹیکنالوجی کا بادشاہ بنوا لیا تھا، جنوبی کوریا، ویتنام، تھائی لینڈ، مشرقی یورپ کے ممالک سب تباہ حال تھے لیکن آج پاکستان میں اور ان میں زمین آسمان کا فرق ہے، حتی کہ سری لنکا جیسا ملک جو دو دہائیوں تک تامل دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال رہا آج جا کے صرف وہاں کی ترقی، قانون پر عمل داری، ٹرانسپورٹ سسٹم، صفائی و ستھرائی ہی دیکھ لیں تو شاید شرم آ جائے-ابھی ہم نے اپنے پڑوسی ملک بھارت اور کل تک ہمارا ایک بازو مشرقی پاکستان یعنی آج کے بنگلہ دیش کی بات تو کی ہی نہیں کہ وہ آج ہم سے کتنی ترقی کر چکے ہیں، بھارت دنیا کا کثیرالآبادی ملک ہونے کے باوجود آج بھی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا وہ بھی ترقی دوڑ میں پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے- ایک طبع شدہ کالم میں بنگلہ دیش کی ترقی کے راز معلوم ہوئے اور دماغ بھک سے اڑ گیا، ہمیں اپنی اوقات پتہ چل گئی، آپ بھی اس کالم کے اقتباس ملاحظہ کریں اور فیصلہ کریں کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن کون ہے…”بنگلہ دیش کا صرف ایک شہر چٹاگانگ میں ایک ایکسپورٹ پروسیسنگ زون ہے اس میں 180 انٹرنیشنل فیکٹریاں ہیں صبح ہی صبح تمام لوگ کام کے لیے وہاں جاتے ہیں چناں چہ سڑکوں پر انسانوں کا سیلاب دکھائی دیتا ہے اور اس سیلاب کا 90 فیصد عورتوں پر مشتمل ہوتا ہے بنگلہ دیش کا اصل کمال خواتین ہیں ان لوگوں نے خواتین کو کارآمد بنا دیا چناں چہ ملک ترقی کر رہا ہے آپ وہاں کسی طرف نکل جائیں- ترقی کی چند اصولوں میں ایک یہ ثابت ہو گیا کہ بنگالیوں نے 1971 کے بعد خواتین کو ایکٹو لائف میں شامل کرنا شروع کر دیا تھاگرامین بینک اور براک جیسی آرگنائزیشنز نے مردوں کی بجائے عورتوں کو قرضے دینا شروع کر دیے اور یوں خواتین آہستہ آہستہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ آج 82 فیصد جوان بنگالی خواتین کام کرتی ہیں آپ بنگلہ دیش کی کسی مارکیٹ شاپنگ سنٹر آفس یا پھر فیکٹری میں چلے جائیں آپ کو وہاں ہر طرف خواتین نظر آئیں گی جب کہ پاکستان میں صرف ایک فیصد خواتین ورکنگ وومن ہیں۔یہ بنگلہ دیش کے اکنامک ماڈل کا پہلا حصہ ہے آپ اب اس ماڈل کا دوسرا اور تیسرا حصہ بھی دیکھیے 1971 تک بنگلہ دیش کی معیشت امپورٹ بیسڈ تھی کھانے کا سامان تک باہر سے آتا تھا مشرقی پاکستان میں باتھ روم بھی مغربی پاکستان بنواتا تھا لیکن بنگلہ دیش نے آہستہ آہستہ اپنی معیشت کو امپورٹ سے ایکسپورٹ میں تبدیل کر دیا یہاں تک کہ 2018 میں بنگلہ دیش کی ایکسپورٹس 45 بلین ڈالرز تھیں یہ اس سال 47 بلین تک پہنچ چکی ہیں اوریہ 2021 میں اپنی پچاسویں سالگرہ 50 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کے ساتھ منائیں گے اور بنگلہ دیش نے یہ فیصلہ آج سے دس سال پہلے کیا۔بنگالی حکومت نے 2011 میں اعلان کیا تھا ہم نے پچاسویں سالگرہ تک (2021) پچاس بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کا ٹارگٹ حاصل کرنا ہے اور یہ تقریبا اس ٹارگٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں اس کا جی ڈی پی بھی 348 بلین ڈالرز ہو چکا ہے اورگروتھ 7 اعشاریہ 9 فیصد ہے یہ اس لحاظ سے دنیا کی 39 ویں معیشت بن چکا ہے اور ہم اس کے مقابلے میں ہماری گروتھ منفی 0.4 ہو چکی ہے جی ڈی پی 280 بلین ڈالرزہے اور ہم 22 کروڑ لوگ جو باعث شرم ھے 21 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کرتے ہیں۔آپ یہ حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے بنگلہ دیش میں کاٹن پیدانہیں ہوتی لیکن یہ کپاس امپورٹ کر کے 20 بلین ڈالرز کا تیار برانڈڈ گارمنٹس 19 بلین ڈالرز کا دھاگا سوا بلین ڈالرز کے جوتے (جاگرز) اور ایک بلین ڈالرز کی کاٹن ایکسیسریز ایکسپورٹ کرتا ہے صرف ٹوپیاں ایکسپورٹ کرکے 500ملین ڈالرز کماتے ھیں۔ دیگر اسکے علاوہ ھیں۔ یہ بڑی تیزی سے دنیا کے دس بڑے ایکسپورٹرز کی لسٹ کی طرف بھی بڑھ رہا ہے اور بنگلہ دیش کے فارن ایکس چینج ریزروز بھی39 بلین ڈالرزہیں جب کہ ہمارے ریزروز 19بلین ڈالرز ہیں۔ پر کیپیٹا انکم انکی 2209 ڈالرز ھے جبکہ ھماری 1307 ڈالرز ھے۔ بنگلہ دیش کی کرنسی کا نام ٹکا ہے 1971 میں پاکستان کے ایک روپے کے چار ٹکا آتے تھے آج ایک ٹکا پاکستان کے 2.5 روپے کے برابر ہے آج بھارتی اور بنگلہ دیشی کرنسی برابر ہو چکی ہے اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں بنگلہ دیش نے یہ ساری معیشت کمائی ہے اس میں کوئی کولیشن سپورٹ فنڈ وار آن ٹیرر،آئی ایم ایف، افغان جہاد اور مانگے تانگے کے پیسے شامل نہیں ہیں یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے جب کہ ہم امریکا عربوں اور چین کے سب سے بڑے جنگی سپورٹر ہونے کے باوجود کاسہ گدائی لے کر گلی گلی پھر رہے ہیں۔یہ بنگالی کون ہیں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں ہم جن کے ساتھ ہاتھ تک ملانے کے روادار نہیں ہوتے تھے یہ وہی لوگ نہیں ہیں جنہیں ہم چھوٹے قدوں تنگ چھاتیوں اور کالی رنگت کی وجہ سے فوج اور پولیس میں بھرتی نہیں کرتے تھے؟ ہم جنہیں ویٹرز اور خانساموں سے اوپر سٹیٹس دینے کے لیے تیار نہیں تھے ہم جنہیں کنٹرول کرنے کے لیے مغربی پاکستان سے ھوم سیکریٹری اور چیف سیکرٹری بھجوا دیتے تھے اور وہ وائسرائے بن کر پورے مشرقی پاکستان کو کنٹرول کرتے تھے۔ہم جن کے بارے میں کہتے تھے بنگالیوں کو باتھ رومز اور ٹوائلٹس کی کوئی ضرورت نہیں یہ سرکنڈوں کے پیچھے بیٹھ کر سب کچھ کر لیتے ہیں اور ہم جن کے لیڈروں کو دھوتی والے بھی کہا کرتے تھے اور انہیں اٹھا کر جیلوں میں پھینک دیتے تھے ہم 1971 تک ان کے بارے میں کہا کرتے تھے یہ ہم سے الگ رہ کر ایک سال نہیں گزار سکیں گے اور یہ روتے ہوئے ہمارے پاس آئیں گے لیکن آج 49 سال بعد بنگلہ دیشی کہاں ہیں اور ہم کہاں ہیں؟ ہم بہادر دانشور چالاک اور خوب صورت ہونے کے باوجود نیچے سے نیچے جا رہے ہیں جب کہ بنگالی بدصورت بے وقوف نالائق اور بزدل (یہ ہماری اشرافیہ عرف بدمعاشیہ کہا کرتی تھی میری رائے بنگالیوں کے بارے میں بالکل و یکسر مختلف ہے) ہونے کے باوجود ترقی پر ترقی کرتے جا رہے ہیں۔بنگلہ دیش کی آبادی 1971 میں ساڑھے چھ کروڑتھی اور ہم چھ کروڑتھے لیکن آج یہ ساڑھے سولہ کروڑ ہیں اور ہم 22کروڑہیں یعنی بنگالیوں نے اپنی آبادی تک کنٹرول کرلی اور ہم اپنی آبادی پر بھی قابو نہ پا سکے ہم دھڑادھڑ پھیلتے چلے جا رہے ہیں ہماری شرح خواندگی73سال بعد 60فیصداور بنگلہ دیش کی49سال میں 74فیصد ہو گئی بنگلہ دیش میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جمہوریت کی جڑیں بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔اور آپ المیے پر المیہ دیکھیے کراچی کے وہ بزنس مین اور صنعت کار جو 1971 میں جان بچا کر مغربی پاکستان آئے تھے وہ اب بنگلہ دیش میں فیکٹریاں لگا رہے ہیں یہ لوگ آج کے پاکستان سے بھاگ کر سابق پاکستان میں پناہ لے رہے ہیں اب تو ان کی کرکٹ ٹیم بھی ھماری ٹھیک ٹھاک پٹائی کردیتی ھے۔ یہ عدل وانصاف میں بھی ہم سے آگے ہیں ان کی ٹیکس کولیکشن بھی ہم سے بہتر ہے اور سیاحت بھی یہ جرائم میں بھی ہم سے بہت پیچھے ہیں وہاں ہمارے مقابلے میں مذہبی رواداری بھی کہیں زیادہ ہے اور بنگلہ دیش عالمی سطح پر بھی ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے۔او آئی سی ہمارے مقابلے میں ان کی بات زیادہ سنتی ہے اور یورپی یونین اور اقوام متحدہ بھی ان کو ہم سے زیادہ اہمیت دیتی ہے کیوں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا! آخر ہم میں کوئی نہ کوئی خامی تو ہو گی؟ ہماری اپروچ ہمارے ماڈل میں کوئی نہ کوئی خرابی تو ہو گی جس کی وجہ سے ہم پیچھے جا رہے ہیں اور ان بنگالیوں میں کچھ نہ کچھ تو ایس ہوگا جس کی وجہ سے یہ 49 سال میں ہم سے آگے نکل گئے ہیںکیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم کسی کونے میں بیٹھ کر ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ سوچ سکیںہم اپنا محاسبہ کر سکیں اگر وہ وقت اب بھی نہیں آیا تو پھر کب آئے گا؟ خدا کے لیے سوچیے۔”بقول منیر نیازی۔”منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے۔کہ حرکت تیز تیز ھے اور لیکن سفر آھستہ آھستہ” مذکورہ بالا کالم کا اقتباس پڑھ کر آپ اس نتیجے پر پہنچیں یا نہ پہنچیں لیکن حقیقت اظہرمن الشمس کی طرح واضح ہے کہ ملک پاکستان کا سب سے بڑا دشمن خود پاکستانی ہے، کیونکہ یہ کہیں فوجی ہے، کہیں سیاست دان، کہیں افسر شاہی، کہیں وڈیرہ، کہیں ساہو کار اور اب کچھ دہائیوں سے یہ تفریق بھی شدت سے سامنے آ رہی ہے کہ یہ پاکستانی اب کہیں پنجابی ہے، کہیں پٹھان، کہیں سندھی، کہیں بلوچی ، کہیں سرائیکی اور کہیں مہاجر ہو چکا ہے، ان سب میں ایک بات قدرے مشترک ہے کہ کوئی بھی پاکستانی نہیں، کوئی پاکستان کے لئے نہیں سوچتا، سب کی سوچ اور مفادات کا محور ذات ہے، خود غرضی ہماری قومی شناخت، تباہی ہمارا ماضی ، الزام تراشی ہمارا حال اور بربادی ہمارا مستقبل بن چکا ہے- دنیا چاند ستاروں کو چھونے کی بات کر رہی ہے اور ہم ابھی تک بجلی اور پانی ہی پورا تقسیم نہیں کر پارہے، ہماری سڑکیں ہزاروں سال پرانی ہماری تہذیب کی آج تک عکاسی کر رہی ہیں جہاں ڈامر سے سڑکیں نہیں بن سکتی تھیں لہذا کچا اور ناہموار راستہ ہی ہمارا روڈ میپ بن چکا ہے-اس حقیقت شناسی کے بعد یہ دعوی نہ کیجئے کہ ہمارا دشمن بھارت، امریکا اور اسرائیل ہے، ہمارا دشمن کوئی نہیں ہم خود پاکستانی ہیں، ہم اس ملک کو اور عوام کو لوٹنے والوں کو اپنے سروں کا تاج بناتے ہیں ان کے لئے جانیں قربان کرنا اپنا فخر سمجھتے ہیں لہذا ہم پاکستانیوں سے بڑا پاکستان کا دشمن کوئی نہیں-
کرپشن کے خاتمے میں چند تجاویز
احتساب عدالتوں میں ججوں کی تقرری میں بھی وفاقی حکومت کا کردار ہونا چاہیے
نیب کراچی نے نصرت حسین منگن کے سات ارب سے زائد اثاثوں کا انکشاف کیا ہے، اخباری اطلاع کے مطابق سندھ پولیس کے ریٹائرڈ آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن کیخلاف نیب کی تحقیقات شروع ہو گئی، جس میں سابق آئی جی جیل خانہ جات نصرت حسین منگن کے اثاثہ جات کی تصدیق کا عمل جاری ہے، اس سلسلے میں نصرت حسین منگن کی ضلع ٹھٹھہ میں اراضی کی تصدیق کے لئئے ڈپٹی کمشنر سے بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں جس کے مطابق نصرت منگن اور فیملی ارکان کے نام ضلع ٹھٹھہ کے مختلف علاقوں میں چھیانوے ایکٹر اراضی ھے، نصرت منگن کے سرکاری اور چار نجی بینکوں کے اکاونٹ کی بھی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں، نیب ذرائع کے مطابق نصرت منگن نجی بینک میں پیر سرمد کے نام سے کھلنے والے اکاونٹ کو آپریٹ کرتے رہے، پیر سرمد کے اکاونٹ سے سابق آئی جی جیل کے اکاونٹ میں کروڑوں کی ٹرانزیکشن کی گئیں، نصرت حسین منگن کی ملکیت میں رانی پور میں سی این جی اسٹیشن بھی ہے جبکہ نجی بینک کے اکاونٹ کے عائشہ خاتون اور میرا نامی خاتون کے اکاونٹ کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، نیب کا خیال ہے کہ یہ اکانٹ بھی نصرت منگن کے ہی کنٹرول میں تھے، واضح رہے کہ نصرت حسین منگن اسی سال ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ملاحظہ کیجئے ایک سابق آئی جی جیل خانہ جات جسے شاید آئی جی بھی منظور نظری کی بنیاد پر بنایا گیا لگتا ہے اور وہ ساری زندگی سندھ کی مختلف جیلوں میں ڈپٹی یا سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا رہا، اس کی کرپشن کے بارے میں ہولناک انکشافات دراصل جیل میں ہونے والی ہوشربا کرپشن کا پردہ چاک کرتی ہے- یہ بات تو ہمیشہ سے ہی سنتے آئے ہیں کہ جیل میں رہنے کے لئے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں جیسا کہ کرایہ دار اگر کرایہ ادا نہ کرے تو مالک مکان اسے نکال باہر کرتا ہے تو جیل ایسی جگہ ہے کہ جہاں جیل انچارج اسے نکال باہر تو نہیں کرتا لیکن مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا جاتا ہے یا پھر اتنی مشقت کرائی جاتی ہے کہ وہ مجبور ہو جاتا کہ اس کے پیارے چوری کریں یا ڈاکا ڈالیں اسے سکون دینے کی غرض سے جیل حکام کو پیسہ دیں- جیل کرپشن کا ریکٹ صرف ایک ہی کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ سب سے نچلے سپاہی سے لے کر آئی جی اور برسراقتدار جمہوری ہو یا آمری حکمرانوں کی جیبوں میں بھی جاتا ہے- یہ حصہ کٹ کٹا کر بھی نصرت منگن کے اکانٹ میں سات ارب ظاہر کر رہا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جیلوں میں کتنے کھربوں کی حرام کمائی ہوتی ہو گی- یہ سات ارب روپے وہ ہیں جو بظاہر منکشف ہوئے ہیںاس کے علاوہ کتنے ارب روپے بذریعہ حوالہ اور منی لانڈرنگ اس ملک سے منتقل کر دئیے گئے اس کا کچھ پتہ نہیں- یہ صرف سندھ پر موقوف نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جیلوں میں ایسا ہی حرام کمائی کا ریکٹ چلتا ہے، بس کہیں کچھ کم اور کہیں زیادہ-پاکستان میں گزشتہ 30 سالوں سے کرپشن نے جس طرح پنجے گاڑے ہیں اس نے اس ملک کی سیاسی، اخلاقی، خاندانی اور مذہبی قدروں کو نیست و نابود کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج کرپشن کو سنگین جرم کے بجائے ایک فیشن کے طور پر لیا جا رہا ہے اور جو کرپشن میں ملوث نہیں اسے بے وقوف اور گھامڑ قرار دے کر گویا بے عزتی کی جاتی ہے، صرف دولت کو لوگوں نے پیمانہ عزت اور شرافت بنا لیا ہے اور اصل عزت و شرافت دور کسی قبرستان میں قصہ پارینہ بن چکی ہے-کرپشن کے بارے میں کچھ کہنا اب بالکل بے سود ہو چکا ہے، اب کہنا صرف یہی ہے کہ موجودہ حکومت جس نے اپنا نام انصاف پر رکھا ہے اس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کرپٹ لوگوں کے خلاف صرف خبروں پر تکیہ نہ کرے بلکہ ان کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ثبوت اکھٹے کئے جائیں اور اتنا مضبوط استغاثہ تیار کیا جائے کہ ان کرپٹ افراد کو قانون میں زیادہ سے زیادہ سزا کا مستوجب ٹھہرانے میں مدد مل سکے، معاملہ خواہ یہ صوبائی ہے اور پوری سندھ حکومت ہی کرپشن کی غلاظت میں لتھڑی ہوئی ہے لیکن احتساب پھر بھی وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے، اگر ان کرپٹ افراد کو تیز ترین ٹرائل کے ذریعہ سخت سے سخت سزائیں دی جائیں گی تبھی کرپشن کے اس بپھرے طوفان کی شورش کم جا سکتی ہے، دوسرا حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ احتساب عدالتوں میں ججوں کی تقرری بھی خود کرے اور اس میں بھی پی ایس پی افسران والا ضابطہ بروئے کار لایا جا سکتا ہے کیونکہ سندھ میں رہنے والا جج ان مگر مچھوں کے آگے کہیں نہ کہیں اثرانداز ہو سکتا ہے، احتساب کے مقدمات میں تیزی لانے کے لئے اس تجویز پر غور شفاف انصاف کے بہت سے دریچے کھول دے گا-
عوام یوٹلیٹی سروسز فراہم کرنے والے اداروں کے ہاتھوںیرغمال
کراچی کے عوام یوٹلیٹی سروسز فراہم کرنے والے اداروں کے ہاتھوں ایسے یرغمال بنے ہوئے ہیں جیسے ایک کہاوت ہے کہ رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ایک تو اشیائے خورد نوش کا دن بہ دن مہنگا ہونے سے عوام مہنگائی کے بوجھ تلے گردن تک دھنس گئی،آٹا،چینی دالیں،دودھ اور روزمرہ کے استعمال کی اشیاءکا دن بہ دن مہنگا ہونا لمحہ فکریہ ہے۔سابق کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی کارکردگی پرائس کنٹرول اور چیک اینڈ بیلنس میں صفر رہی اور موجودہ کمشنر کراچی سہیل راجپوت نومولود کمشنر کراچی ہیں مگر فی الحال انہوں نے بھی ابھی تک کوئی بھی ایسا لائحہ عمل نہیں بنایا جس سے خود ساختہ مہنگائی کے جن کو کس طرح سے بوتل میں بند کرنا ہے کمشنر کراچی کب اور کیسے اور کیا اقدامات کرتے ہیں یہ بات تو کوئی نہیں جانتا مگر ہوشربا مہنگائی نے جس طرح عوام الناس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ان سے بہتر کون جانتا ہے۔کراچی میں ایک تو مہنگائی حکومت کی جانب سے کی گئی اگر ہم اسکو ایک طرف رکھتے ہوئے اور پرائس کنٹرول لسٹ جو حکومت کی جانب سے دکانوں پر آویزاں ہوتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہوتی ہے اپنی مثال آپ سے مراد یہ ہے کہ اس میں درج اول ،درج دوئم اور درج سوئم کے کالم اور انکے سامنے سبزی پھل و دیگر اشیاءکی قیمتی درج ہوتی ہیں مگر مزاج خیز بات یہ ہے کہ نہ تو دکاندار کو پتہ ہے کہ وہ کونسے درجے کی اشیاءکی قیمت پر بیچ رہا ہے اور نہ ہی خریدار کو پتہ ہے کہ وہ کسی درجہ کی اشیاءخرید کر کونسے درجے اشیاءکی قیمت پر خرید رہا ہے مسئلہ نہ بیچنے کا ہے مسئلہ صرف خریداروں کو ہے کہ وہ کس طرح گھر کا کچن پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر پڑنے والے اضافے بوجھ کو اٹھانے کی سکت رکھنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے تعلیمی اخراجات ،صحت و دیگر امور کو کس طرح برابری کی بنیاد پر لیکرچلیں یہ ایک قابل غور بات اور مسئلہ ہے ویسے پاکستان کے کراچی میں 75 فیصد آبادی کرایہ داروں اور مزدور پیشہ افراد پر مشتمل ہے اور یہ عوام سب سے زیادہ قابل رحم اور لائق تحسین ہیں اس وجہ سے کہونگا کہ یہ بے چارے اور انکی زیر کفالت لوگ جس طرح ایک سے دو کمرے میں 7 سے 11 افراد بناءکسی بنیادی ضرورت زندگی مثلاً کبھی گیس نہیں تو کبھی پانی نہیں اور تو اور کے الیکٹرک نے انکی زندگی میں مزید غم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ اور بلنگ نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا ،کس طرح یہ مہنگائی کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں ،نبردآزماہوتے ہوئے کچھ سنبھل پانے کی کوشش کرنے کا عمل شروع ہی ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ آنے شروع ہوجاتے ہیں اب تو یہ دور آگیا ہے کہ بجٹ تو آنے کا انتظار ہی نہیں کیا جاتا اب تو روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی کا جن روز بروز طاقت ور ہوتا جارہا ہے۔عوام کا اب تو یہ حال ہے کہ یہ وہی عوام ہے جس نے گزشتہ ڈھائی سال پہلے اس وجہ سے تبدیلی کا نعرہ لگایا کہ اب عمران خان کی شکل میں مسیحا آگیا ہے اور اب سارے نہیں کم از کم چند مسئلے حل ہوجائیں گے تو جوان جو گزشتہ کئی سالوں سے نوکریوں کے لئے دھکے کھاتے اور دھول چاٹتے پھررہے ہیں تو اس میں امید کی کرن چمکی ہے۔ بے گھر عوام جو عرصہ دراز سے جھونپڑیوں،جھگیوں اور کرایہ داری کی شکل میں رہائش پذیر تھے انکے چہرے بھی خوشیسے تمتمانے لگے کے چلو اب ہم بھی صاحب مکان ہوجائیں گے تاجر برادری بھی خوشی سے نہال ہوگئی کہ چلو اب کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کرے گا اور وقت کا پہیہ خوشیوں اور ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے گامزن ہوجائے مگر تبدیلی کا نعرہ لگانے والی عوام کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ تبدیلی کس قسم کی اور کیسی آنے والی ہے انکروچمنٹ کی آڑ میں تاجر برادری کے کاروبار ختم کردیئے گئے انکی دکانیں ،پتھارے وغیرہ ختم کردیئے اور ان کی آس پر اوس پڑجانے کے باعث مایوسی کی دلدل میں پھنس کر کسی کی مدد کے لیے زاروقطار رونے پر مجبور ہوگئے انکے بچے صحت و تعلیم اور تاجر خود کاروبار سے محروم ہوگئے۔
سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ پاکستان کے ہر وزیراعظم نے کسی نہ کسی اسکیم کی لالچ دے کر غریب عوام کے جیبوں سے رقم نکلوانے میں کامیاب رہی اسکیم کامیابی سے ہمکنار ہونا تو درکنار مگر حکمرانوں کی جیب سے رقم نکلوانے کی اسکیم وزیراعظم درے وزیراعظم کامیابی و تسلسل کے ساتھ جاری و ساری رہی جیسا کہ پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری ے سیورریفل ٹکٹ کے نام سے ایک اسکیم کا اجراءکیا جس میں بڑے پیمانے پر خطیررقم بٹورنے اور عوام کی جیب سے نوٹ لینے کے بعد عوام کو بے وقوف بنا کر رقم اینٹھ لی گئی تو دوسری طرف سابق وزیراعظم پاکستان نوازشریف نے قرض اتاروں ملک سنواروکے نام سے نیا طریقہ کار متعارف کروایا اور محنت کشوں کی محنت اور خون پسینے کی کمائی ہوئی خطیر رقم کہاں گئی کسی کو نہیں پتہ چلا مگر قرض تو نہ اترا مگر نواز شریف سیٹ سے اتر گئے اور ملک خداداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان قرضوں کی دلدل میں مزید اتر کراتہا گہرائیوں میں چلا گیا۔ پھر عوام کے دلوں پر جلسے جلوسوں اور دھرنوں سے راج کرنے اور انکو خوابوں کی دنیا سے حقیقی دنیا میں لانے اور کرپشن اور مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے عمران خان نے جدوجہد کی اور ایک دن عمران خان کا خواب پورا ہوا اور وہ پاکستان کے وزیراعظم کے طور پر منتخب ہو کر وزیراعظم کی سیٹ براجمان ہوگئے اور عوام میں تبدیلی کی خوشی خوب انجوائے کی اور پھر تبدیلی نے ایسی تبدیلی دکھائی کہ وزیراعظم عمران خان ویسے ہی چھکے چوکے لگانے کے شوقین تھے انہوں نے سیاست کے میدان کو بھی کرکٹ کا میدان سمجھا اور عوام کو ایسے تبدیلی کے نام پر مہنگائی کے وہ چوکے چھکے لگائے کہ مہنگائی کا نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ توڑڈالا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جناب وزیراعظم عمران خان نے جس نظریہ کے تحت پاکستان تحریک انصاف بنائی اس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہیں کہ انکی مثبت میں کوئی منظور نہیں مگر وہی نوجوان جن کو وزیراعظم عمران نے ملاکرپی ٹی آئی کی کابینہ تشکیل دی تھی تو اس سے ایسا ہی لگتا تھا کہ عمران خان بطور وزیراعظم ملک خداداد کے لئے اور عوام کے لئے ایک بہترین وزیراعظم بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی نیک نیتی پر بھی کوئی شک نہیں کہ وہ ایساہی چاہتے تھے اور تا حال وزیراعظم پاکستان عمران خان کرپشن ،چوربازاری،چوروں اور ڈاکوﺅں سے مہنگائی کی اس جنگ میں نبرد آزما ہیں مگرکرپشن کے جن نے ان کو اس طرح جکڑلیا ہے کہ وہ کوشیش حتی الامکان کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اور عوام کو بڑا ریلیف دینا چاہتے ہیں اللہ انکو انکے اس مقصد میں کامیاب و کامران و سرفراز کرے تاکہ ملک پاکستان قرض کی لعنت اور عوام مہنگائی کے جن سے چھٹکارا حاصل تب کریں گے جب وزیراعظم پاکستان عمران خان مہنگائی اور کرپشن کے پاور فل جن کو بوتل میں بند کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*