خواتین کی ترقی لیکن استحصال کے ساتھ

‘خواتین آج کل ہر شعبہ زندگی میں کام کر رہی ہیں اور اپنی قابلیت کا لوہا بھی منوا رہی ہیں’۔ یہ جملہ زبان زدعام ہے اور کسی حد تک درست بھی ہے لیکن کیا حقیقی معنوں میں اس پر عمل ہوتا بھی ہے؟? اس سے کم ازکم میں تو متفق نہیں کیونکہ تمام ہی شعبہ جات میں جنسی ہراسگی تو ایک طرف رہی، امتیازی سلوک اور کردار کشی، جنسی ہراسانی سے بھی زیادہ سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔
یہ بات ماننے والی ہے کہ کارپوریٹ سکیٹر بہت ہی سنگ دل ہے، اب چاہے وہ سرکاری نوکری ہے یا پرائیوئٹ سیکٹر، جہاں معمولی سی لغزشوں پر بھی نوکری سے بے دخل کر دیا جاتا ہے اور کسی مجبور انسان کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا۔
انسان اب تک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن خواتین کو مردوں کے مقابلے میں دگنی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے یہی تلخ حقیقت ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک درحقیقت جنسی ہراسانی سے بھی زیادہ خطرناک ہے لیکن قابل افسوس یہ ہے کہ ہم صرف جنسی ہراسگی پر ہی بات کر کے اصل مسئلے سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ ابھی تک ہم اس امتیازی سلوک جیسے مسئلے کا کوئی حل نہیں ڈھونڈ سکے تو خواتین کو مساوی وسائل کیا فراہم کریں گے اور کیسے انھیں قومی دھارے میں شامل کریں گے ؟
ہمارے ہاں دفتروں میں خواتین کو اعلی عہدے تو دے دئیے جاتے ہیں لیکن ان کی قابلیت پر ہمیشہ سوال اٹھایا جاتا ہے، مزید یہ کہ ان کی خوبیوں کا کبھی اعتراف نہیں کیا جاتا۔ ہمیشہ یہی سوچا جاتا ہے کہ یہ خاتون یقینا بدعنوان اور بدکردار ہے جس نے یہاں تک پہنچنے کے لئے اپنی مرضی سے اپنی عزت داﺅ پر لگائی ہے۔
کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ خاتون اپنی محنت کے بل بوتے پر اس مقام تک پہنچی ہے بلکہ یہاں تک باتیں کی جاتی ہیں کہ آج کل تو لڑکیاں اپنی حرکات و سکنات سے من پسند پروفیسروں سے اپنی مرضی کے نمبر بھی لگوا لیتی ہیں اور اب میرٹ کا زمانہ ہی نہیں رہا۔
اس سارے عمل میں زیادہ تر ان خواتین کے مقابلے میں نچلے عہدوں پر کام کرنے والے افراد شامل ہوتے ہیں جن کا کام یعنی جسے ایک طرح سے کھوج لگانا کہا جا سکتا ہے وہی ہوتا ہے۔ ایسے افراد ان خواتین کی سامنے تو بہت تعریف کرتے ہیں لیکن درپردہ کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے اور سازشیں بنتے رہتے ہیں۔
میرے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ ایسی خواتین کے لئے سازشوں کے ذریعے دفتری ماحول کو اس طرح سے بنا دیا گیا کہ وہ کوئی بھی کام نہ کرسکیں یا باس کے ساتھ ان کا سکینڈل بنا دیا گیا تاکہ وہ اپنی بدنامی کے ڈر سے نوکری چھوڑ دیں اور نااہل خواتین کے لئے راہیں ہموار ہو سکیں۔کئی مرد حضرات تو ایسے ڈھیٹ ہوتے ہیں جو نہ تو قابل خواتین کی ذہانت کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی خاموش رہتے ہیں بلکہ ہر جگہ وہ ببانگ دہل یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ جناب آپ کو تو کچھ آتا ہی نہیں آپ کو تو خاتون ہونے کی بنا پر فوقیت دی گئی ہے۔ یا یہ کہ یہاں پہلے تو اس سیٹ کا وجود ہی نہیں تھا بس آپ کے آنے کی دیر تھی کہ باس نے اس سیٹ کی بھی گنجائش بنا لی۔
اسی طرح اگر باس موجود نہ ہوں تو ایسے نچلے درجے کے افسران خاتون کا جینا محال کر دیتے ہیں۔ انھیں کراس ٹاک کے ذریعے کسی بھی گھٹیا مذاق کا نشانہ بنا یا جاتا ہے۔ مختلف انجان نمبروں سے میلز اور نامناسب میسجز بھیجے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
دوسرا خواتین کو تنخواہ بھی کم دی جاتی ہے ، وہ دفتری کام بھی زیادہ کرتی ہیں اور ان کے اضافی کام کا کریڈٹ بھی بہت آسانی سے مردحضرات لینے لگتے ہیں۔ یہ صورتحال بھی ایسی محنتی خواتین کے لئے سر دردی کا باعث بننے لگتی ہے اور وہ دلبرداشتہ ہو کر باوجود باصلاحیت ہونے کے نوکری ہی چھوڑ دیتی ہیں۔
پنجابی زبان کا ایک مشہور محاورہ ہے کہ ” کہنٹراں تی نوں تے سناڑاں نوہ نوں “ یعنی بات بھی کر دو کہ پتہ بھی چل جائے اور آپ کسی کی نظروں میں قصور وار بھی نہ ٹھہریں۔ کسی کو بات سنا بھی دیں اور کسی دوسرے کو بھی علم نہ ہو کہ یہ کارنامہ آپ کا ہے۔ سو خواتین پر اس طرح سے جملے کسے جاتے ہیں کہ لوگ تو پیسٹری کی طرح اچھے لگ رہے ہیں میرا تو میٹھا کھانے کا موڈ ہو رہا ہے۔ آج باس آئے نہیں اور آپ آگئیں بھئی آپ تو خود باس ہیں یہ پورا دفتر ہی آپ کا ہے۔ آپ نہ آئیں میٹرنٹی لیو لے لیں لوگو پورا دفتر ماموں بننے والا ہے۔
خواتین کا مذاق اڑانا ، ان پر جملے کسنا ، ان کی توہین کرنا، معذرت کے ساتھ یہ ذہینت کبھی تبدیل نہیں ہو گی۔ میں نے بہت سے سوٹڈ بوٹڈ افراد کو بھی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرتے دیکھا ہے۔ اپنے سے سنئیر اور اعلی عہدے پر فائز خواتین کا مذاق اڑاتے دیکھا ہے لہذا اس ترقی یافتہ دور میں بھی میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ خواتین کی ترقی کے دعوے صرف دعوے ہی ہیں، ان میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ خواتین کی ترقی استحصال کے ساتھ ہو رہی ہے۔
کیا ہمیں ہراسگی کی طرح اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی ضرورت نہیں، کیا اس سنجیدہ ایشو کیلئے قانون سازی نہیں ہونی چاہئے، یہ سوال عوام کے ووٹوں سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں پر چھوڑتے ہیں خصوصا ان خواتین اراکین پارلیمان پر جو خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کی بالادستی کے بیانات تو خوب ٹھوک بجا کر دیتی ہیں لیکن عملی طور پر کیا کرتی ہیں،وقت خودبتا دے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*