ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم!

 

عابد ضمیر ہاشمی
کسی بھی قوم یا معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ اہلِ قلم ہی ادا کرتے ہیں۔ یہ صاحبان علم و دانش ہی ہوتے ہیں جو عام افراد کی ذہنی آبیاری کرتے ہیں اور اس طرح قیادت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی حالت کردار کا جائزہ اس قوم کے اہل ِ قلم کے نظریات اور کردار سے لگایا جاسکتا ہے۔ قلم کی اس سے بڑی حرمت کیا ہو سکتی ہے جس چیز کی قسم خداوند قدوس نے اٹھائی ہو اللہ کریم نے قلم کو پیدا بھی پہلے کیا، اللہ جل جلالہ نے قرآن مجید کی پہلی وحی کے اندر قلم کا ذکر فرما کر اس کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ پہلی وحی کی پہلی آیت میں سے ایک آیت کا ترجمہ بھی کچھ اس طرح ہیجس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور آیت میں خداوند کریم نے قلم کی اہمیت کو یوں اجاگر کیا۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ لکھتے ہیں۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس کو قلم کے ذریعے لکھ کر ہی محفوظ کیا گیا۔ قلم ہی کا کمال تھا کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود قرآن مجید آج بھی اسی حالت میں موجود ہے جس حالت میں یہ نازل ہوا تھا۔
حضور نبی کریمۖ نے اشاعت اسلام کے سلسلہ میں بڑے بڑے بادشاہوں کو قلم کے استعمال سے ہی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ تاریخ شاہد ہے کہ قلم نے ہی قلم کار پیدا کیے جو قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں قلم کاروں ہی کی بدولت تاریخ زندہ ہے۔
معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اٹھا ہوا قلم قوموں کی تقدیر بدلنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ قلم کو جہاد کے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک قلم کار اگر قلم کا صحیح استعمال کرے تو وہ معاشرے کو صحیح خطوط پر استوار کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتا ہے معاشرے کی تربیت کر سکتا ہے۔ قلم خواب غفلت میں سوئی ہوئی قوموں کو جھنجھوڑنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا جیسے برصغیر پاک وہند میں حکیم الامت شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے قلم کی طاقت سے اپنی شاہکار تخلیقات سے مسلمانوں کے اندر آزادی کی روح پھونکی۔ دنیا کے نامور شاعروں کی طرح برصغیر پاک وہند میں مولانا ظفر علی خان مولانا الطاف حسین حالی اسمعیل میرٹھی میر انیس اکبر الہ آبادی اور مرزا غالب کو قلم ہی نے دوام بخشا۔ فیضمتاعِ لوح و قلم کے تحفظ کے لیے انگلیاں خونِ دل میں ڈبوتا رہا اور حلقہ زنجیر میں زبان رکھ دینے کیلئے پرعزم رہا۔ زبانِ قلم کو شیریں بنانے کی نصیحت اکبر الہ آبادی نے کی:
بنو گے خسرے اقلیم دل شیریں زباں ہو کر
جہاں گیری کرے گی یہ ادا نور جہاں ہوکر!
اگر ایک طرف ایک صاحب قلم اپنے قلم کا غلط مصرف لے کر دوزخ کی آگ خریدتا ہے تو دوسری طرف دوسرا صاحب قلم اپنے قلم کا صحیح استعمال کرکے جنت الفردوس کا وارث بن سکتا ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ نوع انسان میں قابل ِرشک صرف دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ لوگ جن کو اللہ نے مال دیا اور وہ اپنے مال کو کارخیر میں خرچ کرتے ہیں دوسرے وہ لوگ جن کو اللہ نے علم وحکمت سے نوازا اور وہ اپنے علم کی بدولت صحیح فیصلے کرتے ہیں اور دوسروں کو علم وحکمت کا درس دیتے ہیں۔
قلم ہر دور میں اپنی شکلیں بدلتا رہا ہے کبھی شاخ نبات سے کبھی بانس سیکبھی نرکل سے، کبھی مور کے پر سے قلم بنایا گیا ہے کبھی اس کی شکل پنسل کی ہو جاتی ہے اور کبھی فونٹین پن کی کبھی رفل کی کبھی ٹائپ رائٹر کی اور اب کمپوٹر کے کی بورڈ کی اس نے شکل اختیار کی ہے۔ کچھ اہل ِعلم سے جب کاغذ اور قلم چھین لیا گیا تو انھوں نے کوئلے سے جیل خانوں کی دیواروں پر لکھنا شروع کر دیا۔
قلم کبھی ابر گوہر بار ہوتا ہے اور کبھی تیغ جوہر دار ہوتا ہے کبھی شہریار اصیل ہوتا ہے، کبھی صور اسرافیل ہوتا ہے۔ کبھی یہ ناموس وطن کا نشان ہوتا ہے کبھی حق کا پاسبان ہوتا ہے تو کبھی ادب عالیہ کی تخلیق کا وسیلہ ہوتا ہے۔ اس کے بہت سارے کام ہیں جس سے متعلق شورش کاشمیری کہتے ہیں کہ سچائی حرف کا حسن ہے۔ حرف حقائق کے نور میں لپٹا ہو گا تو با وقار اور با اعتبار ہو گا۔ اس میں طاقت ہو گی دبدبہ ہو گا وہ محتسب بھی ہو گا اور رہنما بھی اور اگر وہی حرف جھوٹ اور ملاوٹ کے لبادے میں لپٹا ہوگا یا مفادات کی زنجیروں میں جکڑا ہوگا تو بے وقار اور رسوا ہوگا۔
صادق جذبہ اور خلوص، تحریر کو منور کر دیتا ہے اور حرفوں کی فصل کو نکھار بخشتا ہے جب کہ عناد اور مفاد اس لہلہاتی فصل کو اجاڑ دیتا ہے اور تحریر کو بے روح اور بد صورت بنا دیتا ہے۔ ہم قلم کی افادیت مقام و مرتبہ ہی بھول گئے ہم نے حرف کا ستر قائم نہیں رہنے دیا اس کی حرمت پامال کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایسا قلم جو مردہ لفظ تخلیق کرے یا جس سے نکلے ہوئے لفظوں کا محرک دام اور دنیاداری ہو اسے بزرگوں کے بقول صرف ازار بند ڈالنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ قلم اٹھانا ہے تو اس کے آداب سیکھنا ہوں گیحرف لکھنا ہے تو اس کے تقاضے نبھانا ہوں گے اہلِ قلم کو قلم کے تقدس کی قسم اٹھانا ہو گی۔
قلم کے ذریعے جو علم کی روشنی پھیلائی جاتی ہے وہ مستقبل کی تاریخ کے دریچوں کو روشن کرتی ہے انسانیت کے قافلے اس کی روشنی میں اپنا سفر طے کرتے ہیں اس لیے قلم کا فائدہ زیادہ عام اور اس کا فیض مدام ہے۔ اسی لیے تحریر کو تقریر پر فضیلت حاصل ہے کیوں کہ تحریر کی تاثیر گردش شام وسحر کی زنجیر سے آزاد رہتی ہے۔ جب تک الفاظ ہمارے قلم سے لکھے نہیں جاتے وہ ہمارے ہی ہوتے لیکن جب لکھ لیے جاتیشائع ہو جاتے تو وہ قوم کی امانت ہوتے ہیں اور امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔
مرا قلم تو امانت مرے عوام کی ہے
مرا قلم توعدالت مرے ضمیر کی ہے!
قلم قوم کی امانت ہونے کے ساتھ ہی ہمارے لیے بڑی آزمائش ہے اگر ہم نے اس کا درست استعمال کیا تو یقینا ذریعہ نجات بن سکتی ہے۔ ہماری رسوائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے حرمت قلم کو پامال کیا ورنہ معاشرے کی اصلاح و احوال کے لیے دست و گریباں ہونے سے کئی زیادہ قلم کے درست استعمال ہونے سے معاشرہ گلِ گلزار بنایا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ قلم کی طاقت تلوار سے بھی زیادہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*