سائبر حملے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سوشل میڈیا کی خطرناک مثلث

اینڈریو کا تعلق رویشیا سے تھا۔ رویشیا آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے ایک چھوٹا سا ملک تھا اور شدید معاشی بحران سے گزر رہا تھا۔ بے تحاشا معدنی ذخائر اور نوجوان آبادی کے باوجود رویشیا زوال کی جانب گامزن تھا اور اس کی وجہ سرطان کی طرح پھیلی ہوئی کرپشن تھی، جو ہر طبقے اور محکمے میں سرائیت کرچکی تھی۔
اینڈریو بلند مقاصد کا حامل انتہائی دور اندیش انسان تھا۔ اس نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک صحافی کے طور پر کیا تھا، لیکن اپنی بے باکی اور انتہائی درجے کی تخلیقی صلاحیتیں ہمیشہ اس کا آگے بڑھنے کا راستہ روکے رکھتی تھیں۔ لیکن جب ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے ایک طوفان کی طرح لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا تو اینڈریو نے اس کا بہترین فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اگر یہ کہا جائے کہ جیسے اینڈریو اس طوفان کا ہی انتظار کر رہا تھا تو بے جا نہ ہوگا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اینڈریو کا وی لاگ سوشل میڈیا پر پورے ملک میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا چینل بن چکا تھا۔ تب ہی اینڈریو نے ایک ٹی وی پر بھی اینکر کے طور پر کام کرنا شروع کردیا اور یوں اینڈریو اپنے ملک میں سب سے زیادہ مقبول میڈیا پرسنالٹی بن چکا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی تھی اور تب ہی اس نے اپنے برسوں پرانے پلان کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ مقبولیت اور صحافت دراصل اس کے منصوبے کا ابتدائی حصہ تھا تو بے جا نہ ہوگا۔
اینڈریو اپنی دور اندیشی، عقلمندی اور پھر صحافتی تجربے کی بنیاد پر عوامی نفسیات کا بہترین ماہر بن چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کن موضوعات پر کیا بات کرکے عوام میں پذیرائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یوں ایک دن اچانک اس نے ایک قدرے غیر مقبول سیاسی جماعت میں شمولیت حاصل کرلی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس غیر مقبول سیاسی جماعت میں ایک نئی روح پھونک دی۔ وہ اس سیاسی جماعت کا نہ صرف ایک اہم رکن بن گیا بلکہ اس جماعت کی فیصلہ سازی میں بھی اہم کرادار ادا کرنے لگا۔ اور پھر وہ اسی جماعت کی مدد سے رویشیا کا صدر بننے میں کامیاب ہوگیا۔
اینڈریو کی کامیابی میں اس کا عوامی نفسیات پر عبور، مسحورکن انداز بیان، معاشی و سیاسی اور سماجی معاملات پر مکمل دسترس اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا انتہائی تخلیقی استعمال تھا۔ جو سوشل میڈیا ٹیم اینڈریو نے بنائی تھی وہ بھی اس جیسی خوبیوں کی حامل تھی۔ اس نے چن چن کر ایسے نوجوانوں کا انتخاب کیا تھا جو کسی بھی موضوع پر انتہائی کم لیکن مدلل سوشل میڈیا پیغام سے لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور اپنے مخالفین کو کاری ضرب لگا سکتے تھے۔ اس سوشل میڈیا ٹیم کو لاکھوں خودکار سوشل میڈیا اکانٹس کی مدد حاصل تھی، جن کی وجہ سے کسی بھی پوسٹ کو ہزاروں بار شیئر کیا جاسکتا تھا۔ یہ انسان کے بجائے ایک کمپیوٹر پروگرام کرتا تھا، یہی وجہ تھی کہ ان کی کسی بھی پوسٹ کو شیئر کرنے کی صلاحیت کسی بھی عام انسان سے کئی گنا زیادہ تھی۔ جبکہ دوسری طرف اس کی سوشل میڈیا ٹیم کے بنائے گئے سوشل میڈیا ٹرینڈ ہمیشہ ٹاپ پر نظر آتے تھے۔ اور یہ تھا اس کے منصوبے کا دوسرا حصہ، جو انتہائی کامیابی سے مکمل ہوگیا۔
اب اس کے پلان کے آخری اور سب سے خطرناک حصے کا آغاز ہوا۔ اینڈریو جو بظاہر انتہائی مطمئن اور پرسکون نظر آنے والا انسان تھا، اس کے برعکس اس کا دماغ اپنے اندر ایک طوفان لیے ہوئے تھا اور انتہائی جارحانہ سوچ رکھتا تھا۔ بہرحال رویشیا کے صدر بننے کے بعد اینڈریو نے اپنے پلان کے آخری حصے کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا۔ اینڈریو نے سب سے پہلے اپنی فوج کے سربراہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ وہ اسے اپنے اداروں کے بہترین سائبر سیکیورٹی اسپیشلسٹ ڈھونڈ کر دیں، جبکہ دوسری طرف اس نے ملک گیر ایک ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا، جس میں مختلف یونیورسٹیز، کالجز اور پرائیوٹ سیکٹر کے سائبر سیکیورٹی کے ماہر افراد کی تلاش کا کام شرع کردیا۔
اس نے امریشیا میں مقیم اپنے ایک دوست، جو وہاں ایک پرائیویٹ کمپنی میں چیف سیکیورٹی آفیسر تھا، اس کو رویشیا واپس بلا لیا اور اس کی مدد سے باقاعدہ سائبر سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کا آغاز کردیا۔ یہ ادارہ بظاہر ایک خودمختار ادارہ تھا لیکن درحقیقت یہ ادارہ رویشیا کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے انڈر کام کررہا تھا۔ اس ادارے کا قیام بظاہر ملک میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے کام کرنا تھا۔
اینڈریو نے ابتدائی طور پر 250 سائبر سیکیورٹی اسپیشلسٹ کا انتخاب کیا اور حیران کن طور پر نوے فیصد امیدوار کالج اور یونیورسٹی کے فریش گریجویٹ تھے، جبکہ کچھ ایسے سزایافتہ ہیکرز کی سزا معطل کرکے اس ٹیم میں شامل کرلیا گیا جو جیلوں میں ہیکنگ کے غلط استعمال کی وجہ سے قید تھے، لیکن اس کیلیے ضرروی تھا کہ وہ ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کریں جو خاص طور پر اینڈریو کے دوست نے لینا تھا۔ اور حیران کن طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سائبر سیکیورٹی اسپیشلسٹ کی بہت کم تعداد یہ ٹیسٹ پاس کرنے میں کامیاب ہوسکی۔ اب ان 250 سائبر سیکیورٹی اسپیشلسٹ یا ہیکرز کی باقاعدہ ٹریننگ کا آغاز اینڈریو کے امریشیا سے آئے ہوئے دوست ڈیوڈ کی زیر نگرانی شروع کردیا گیا اور یوں 3 مہینے کی سخت ٹریننگ اور کیس اسٹڈیز کے بعد یہ سائبر فورس دنیا کی سب سے خطرناک ہیکر ٹیم بن چکی تھی۔ جس کی اہم ترین وجہ ان کی ہیکنگ میں استعمال ہونے والے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کوانٹم کمپیوٹنگ کا استعمال اور ان کے کوڈز میں مشین لرننگ کا استعمال تھا،
اے آئی کوڈز اور کوانٹم کمپیوٹنگ سے لیس اس سائبر فورس کا توڑ جن سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کے پاس ہو سکتا تھا اینڈریو نے اس فورس کے چند ممبران کو ان کمپنیوں میں پہلے ہی جاب دلوا کر ان کی استعداد کی مکمل جانچ کرلی تھی اور جو ٹولز ان کمپنیوں کے پاس تھے اس سائبر ٹیم نے پہلے ہی ان کا توڑ نکال لیا تھا۔ اب مکمل مطمئن ہونے کے بعد باقاعدہ طور پر اس سائبر فورس نے ایک بھرپور منصوبے کے تحت پوری دنیا میں مختلف محاذوں پر جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سائبر فورس کو رویشیا کی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹوں کی مکمل مدد حاصل تھی۔
اینڈریو کی سائبر فورس نے سب سے پہلے دنیا کے سب سے طاقتور ترین ملک امریشیا کے سیاستدانوں، بڑے کاروباری افراد، اہم سرکاری و فوجی اہلکاروں، مالیاتی اداروں کے سربراہوں اور طاقتور میڈیا شخصیات کی مکمل سائبر نگرانی شروع کردی اور انتہائی سرعت اور کامیابی سے ان کی نجی زندگی کے اسکینڈلز، مالیاتی بدعنوانیاں، محکمانہ غفلت اور عوام سے پوشیدہ خفیہ کارروائیوں کے ثبوت اکھٹے کرنا شروع کردیے۔ انھوں نے ان کے پرسنل اور ادارے کے کمپیوٹرز، ای میلز اور موبائل فونز کو ہیک کرنا شروع کردیا۔ اس مقصد کے لیے ان کو رویشیا کی خفیہ ایجنسی کی مکمل مدد حاصل تھی، جہاں ان کو سائبر ثبوت ملنے میں دشواری پیدا ہوتی وہیں خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ ان کی مدد کرتے تھے۔ ان تمام افراد کی سائبر نگرانی اور ان کے خلاف ثبوت بلاوجہ اکھٹے نہیں کیے جارہے تھے بلکہ یہ سب اس بڑے پلان کے تال میل سے جڑا ہوا تھا جہاں جب بھی کوئی سیاستدان یا سرکاری اہلکار ان کے منصوبے کی راہ کی رکاوٹ بنتا، اس کو ان ثبوتوں سے بلیک میل کیا جاسکتا تھا۔
پلان کے مطابق امریشیا کے صدارتی انتخابات کے دوران سائبر فورس کو جو سب سے زیادہ کرپٹ اور اسکینڈل زدہ امیدوار لگا وہ سموئیل تھا اور سائبر فورس اس کے خلاف اتنے زیادہ ثبوت اکھٹے کرچکی تھی جو اس کی نجی، سیاسی اور سماجی زندگی تباہ کرنے کیلیے کافی تھی۔ سموئیل کی بریش آئی لینڈ میں تین کمپنیاں تھیں۔ بریش آئی لینڈ منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کرنے والوں کی جنت تھی اور سموئیل کی ملکیت تہہ در تہہ کمپنیوں کے اندر چھپی ہوئی تھی اور یہ کمپنیاں ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ میں ملوث تھیں، جس کے تمام ثبوت اینڈریو کی سائبر فورس کے ہاتھ لگ چکے تھے جبکہ اس کا اپنی سیکریٹری سے معاشقہ اور تعلقات کیثبوت بھی اکھٹے ہوچکے تھے۔
سائبر فورس نے اسے اپنی پارٹی میں صدارتی امیدوار کے طور پر کامیاب کروانے کی کوشش شروع کردی۔ انھوں نے سموئیل کے مخالف امیدوار کے دس برس پرانے جنسی اسکینڈل کو عین اس وقت بے نقاب کردیا جب وہ اپنی پارٹی میں سموئیل پر صدارتی امیدوار کیلیے برتری حاصل کررہا تھا اور یوں سموئیل کو رویشیا نیشل پارٹی نے بلامقابلہ صدارتی امیدوار کے طور پر منتخب کرلیا۔ اینڈریو یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر کوئی شخص امریشیا کا صدر منتخب ہوجاتا ہے تو اس کی سائبر نگرانی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ امریشیا کے صدر کے اردگرد سائبر سیکیورٹی کا سخت حصار ہوتا تھا۔ اس لیے اینڈریو نے قدرے لمبا راستہ اختیار کیا اور یوں جب صدارتی الیکشن کا آغاز ہوا تو سموئیل کو جتوانے کیلیے الیکٹرانک ووٹنگ کے نظام کو ہیک کرکے اس میں تبدیلیاں کردی گئیں جبکہ دوسری طرف اینڈریو کی سوشل میڈیا ٹیم جنہیں خودکار بوٹس کی مدد حاصل تھی انھوں نے سموئیل کے مخالف امیدوار لنڈا پر سخت کیچڑ اچھالنا شروع کردیا۔
اور پھر منصوبے کے عین مطابق الیکشن سے ایک مہینے قبل لنڈا کی امریشیا کے دشمن ملک کی چند کاروباری شخصیات سے دیرینہ وابستگیوں کے ثبوت میڈیا کو دے دیے گئے۔ گو ان میں کچھ غلط نہیں تھا لیکن الیکشن سے محض چند دن قبل یہ ثبوت لنڈا کیلیے تباہ کن ثابت ہوئے۔ اس سے اس کے ووٹ بینک کو کوئی نقصان نہ پہنچا لیکن الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں کی گئی گڑبڑ کو اس اسکینڈل سے کور کردیا گیا، کیونکہ تقریبا ہر سروے میں لنڈا، سموئیل سے سبقت لیے ہوئے تھی اور اگر لنڈا ہار جاتی تو سب کو شک ہوسکتا تھا کہ کہیں دھاندلی ہوئی ہے، لیکن اس اسکینڈل نے سب کچھ کور کرلیا اور سیاسی مبصرین بھی لنڈا کی اس اپ سیٹ شکست کا ذمے دار اس کے چند دن قبل آنے والے اسکینڈل کو ٹھہرانے لگے۔
امریشیا کی خفیہ ایجنسی کے سائبر سیکیورٹی ڈویژن کے ڈائریکٹر کو ووٹنگ مشن میں کی گئی دھاندلی کا پتہ لگ چکا تھا لیکن شومئی قسمت کہ وہ بھی پہلے سے ہی سائبر فورس کے نشانے پر تھا۔ اس کو ایک مالیاتی اسیکنڈل کے بارے میں ڈرا دھمکا کر خاموش کروا دیا گیا۔ سموئیل کی صدارتی الیکشن میں جیت اینڈریو کی سائبر فورس کی سب سے بڑی کامیابی تھی اور اصل کھیل اب شروع ہوا تھا۔
سموئیل اور امریشیا کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو ابھی یہ اندازہ نہیں ہوسکا تھا کہ وہ کس طرح ایک خطرناک جال میں پھنس چکے ہیں۔ سموئیل اپنی اس غیر متوقع جیت کا سہرا اپنی قسمت کو دے رہا تھا جو شروع سے اس کا ساتھ دے رہی تھی، لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ سموئیل اینڈریو کی ٹیم کیلیے ایک کٹھ پتلی بننے والا تھا۔
سموئیل نے جب اقتدار سنبھالا تو اس کی ٹیم کے بیشتر لوگ پہلے سے ہی اینڈریو کی سائبر فورس کی مکمل گرفت میں تھے اور پھر سموئیل کے ایک انتہائی قریبی اور بااعتماد دوست کی مدد سے سموئیل تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ اس کی نجی زندگی سے لے کر بزنس میں کی گئی کئی بے ضابطگیوں کے تمام ثبوت اور ڈیٹا مکمل طور پر ہیک کیا جاچکا ہے اور محض ایک بٹن کے دباتے ہی یہ ساری انفارمیشن امریشیا کے میڈیا کو دی جاسکتی تھی، جو سموئیل کیلیے ایک خوفناک خواب بن چکا تھا۔ لیکن اس پیغام میں یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ انھیں کچھ ایسے فوائد چاہئیں جو سموئیل کے لیگل اور آئینی دائرہ کار میں آتے تھے اور اس پر یہ بھی واضح کردیا گیا کہ اس سے کوئی غلط کام ہرگز نہیں کروایا جائے گا۔ سموئیل کو بس کچھ معامالات پر آنکھیں بند کرنی تھیں۔
سموئیل کی کابینہ کے کئی اہم اراکین، اس کی خفیہ ایجنسی کا سربراہ، ججز اور کئی اہم سرکاری اہلکار اینڈریو کی سائبر فورس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکے تھے۔ اور اب یہ سب مل کر امریشیا کے بجائے اینڈریو اور رویشیا کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے۔ اب اینڈریو نے اپنی سائبر ٹیم کی مدد سے سموئیل پر دبا بڑھانا شروع کردیا کہ رویشیا کے ساتھ کئی اہم دفاعی اور معاشی معاہدے کیے جائیں۔ بے تحاشا دفاعی اور معاشی امداد کی منظوری کیلیے کانگریس کے کئی اہم اراکین کو بھی سائبر فورس کی مدد سے کنٹرول کیا جاچکا تھا جبکہ اینڈریو کی یہ سائبر فورس امریشیا کے اہم اور مہنگے ترین دفاعی پراجیکٹ ہیک کر رہی تھی۔ ان پراجیکٹس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کئی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجیز استعمال ہورہی تھیں اور ان پراجیکٹس کی لاگت اربوں ڈالر تھی۔ سائبر فورس یہ سب دفاعی نظام کو ہیک کرنے کے بجائے پرائیویٹ کنٹریکٹر کے سسٹم ہیک کرکے کر رہی تھی جو ان پراجیکٹس پر کام کر رہے تھے۔
سائبر ٹیم امریشیا کے ایٹمی اثاثوں کے کمپیوٹر نظام، بجلی کے نظام اور بینکوں تک کے سسٹم میں پنجے گاڑ چکی تھی اور سب کچھ محض ایک بٹن دبانے کے ساتھ ہی تباہ ہوسکتا تھا۔ دوسری طرف کئی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑی بڑی کارپوریشن کے سربراہوں کو بھی ہیک کرکے مجبور کیا جارہا تھا کہ وہ رویشیا میں بے انتہا سرمایہ کاری کریں اور رویشیا کی افرادی قوت کو بھی استعمال کریں۔ ان کمپنیوں پر امریشیا کے پہلے سے ہیک شدہ سرکاری اہلکاروں اور سیاستدانوں کی جانب سے بھی دبا ڈلوایا جارہا تھا۔ اس کے علاوہ اگر پھر بھی یہ کمپنیاں بات ماننے سے انکار کردیتیں تو ان پر سائبر اٹیک کرکے ان کے ڈیٹا کو لیک کرنے کی دھمکی دی جاتی تھی اور سوشل میڈیا ٹیمز کی مدد سے ان کمپنیوں کے حوالے سے منفی خبروں اور افواہوں کا بازار گرم کردیا جاتا، اسٹاک مارکیٹ میں ان کی پوزیشن کمزور کردی جاتی۔ یہی نہیں کئی بین الاقوامی اور عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہوں کو بھی سائبر فورس نے اپنا ٹارگٹ بنا رکھا تھا اور یہ سربراہ بلا چوں وچرا اینڈریو کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے۔ اور وہ تھا ایک طاقتور رویشیا، جو معاشی طور پر ایک خودمختار ملک ہو۔
یہ عالمی مالیاتی ادارے بھی رویشیا کو دل کھول کر مالی امداد فراہم کررہے تھے۔ یوں امریشیا کی کئی طاقتور شخصیات اور عالمی مالیاتی ادارے سب مل کر رویشیا کو مضبوط تر بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ امریشیا کی خارجہ پالیسی میں رویشیا کے مفادات کا تحفظ ایک اولین ترجیح بن چکا تھا۔ دیگر ممالک، جیو پولیٹیکل تجزیہ نگار اور خارجہ امور کے ماہر لوگ امریشیا کے رویشیا کی جانب اس جھکا پر انگشت بدنداں تھے جبکہ دوسری طرف اینڈریو کی سائبر فورس نے دیگر مملک میں بھی اپنی کارروائیوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ ان ممالک کو بھی رویشیا کے مفادات کے تحفظ کیلیے اہم شخصیات کو نشانہ بنانا شروع کردیا گیا۔ یہ ممالک بھی اینڈریو کے ہاتھوں یرغمال بنتے جارہے تھے۔
اینڈریو کی سائبر فورس نے امریشیا پر دبا ڈال کر دنیا کے ایک بہت بڑے اور بے آباد جزیرے بران لینڈ کے معدنی ذخائر کو نکالنے کیلیے کئی معاہدے کرلیے تھے اور انتہائی تیزی سے اس جزیرے کی معدنی دولت پر قبضہ کرلیا تھا۔ گو کہ یہ جزیرہ ایک اور ملک ڈینیشیا کی ملکیت تھا لیکن اس پر اثرورسوخ امریشیا کا ہی تھا۔ سائبر فورس نے کئی سیٹلائٹس کو کنٹرول کرلیا تھا اور جو لوگ سائبر فورس کے کنٹرول میں نہیں آتے تھے انھیں یا تو سوشل میڈیا ٹیمز کی مدد سے پریشان کیا جاتا اور اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ڈیپ فیک سافٹ ویئر کی مدد سے ان کی فیک ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلا کر ان کو دبا میں لایا جاتا تھا یا پھر سیٹلائٹ کے ساتھ جڑے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ٹیکنالوجی سے لیس خودکار ہتھیاروں کی مدد سے بغیر کسی انسانی مدد کے قتل کردیا جاتا تھا اور ان کے قتل کا کوئی سراغ نہیں ملتا تھا۔
اینڈریو کی سائبر فورس کی تعداد اب 5000 سے تجاوز کرچکی تھی اور اب اس ادارے کی کئی ڈویژنز بن چکی تھیں۔ اس سائبر فورس کی کارروائیاں اب کئی براعظموں میں پھیل چکی تھیں اور یوں لگتا تھا کہ پوری دنیا اور عالمی ادارے اب صرف اور صرف رویشیا کے مفادات کا تحفظ کرتے نظر آرہے ہیں۔ رویشیا، اینڈریو کے پانچ سالہ دور حکومت میں ناقابل یقین معاشی ترقی کرچکا تھا اور اہم سفارتی و معاشی فوائد نے رویشیا کے عوام کی زندگیاں بدل دیں تھیں۔ دوسری طرف اینڈریو پوری دنیا میں ایک انتہائی طاقتور شخصیت بن کر سامنے آیا تھا۔ اینڈریو اپنی سائبر فورس سے پوری دنیا کے پولیٹیکل منظرنامے کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت حاصل کرچکا تھا۔ اینڈریو کو کسی بھی ملک سے اپنی بات منوانے کیلیے اب سفارتکاروں کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کا یہ کام یونیورسٹی اور کالج کے فریش گریجویٹ کردیتے تھے، جو فارن پالیسی اور سفارتی تعلقات کے استعمال سے بالکل ناواقف تھے۔ اینڈریو کی یہ سائبر فورس ایک ناقابل تسخیر طاقت کا روپ دھار چکی تھی۔
()

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*