اساتذہ کو عزت دیجئے

ضیا الرحمان ضیا ئ
کسی بھی چیز کی تعریف دراصل اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی شعر کی تعریف کرتا ہے کہ یہ شعر کتنا بہترین ہے یا کسی تصویر کی تعریف کرتا ہے کہ یہ کتنی دلکش ہے یا کسی عمارت کی تعریف کرتا ہے کہ یہ کتنی عظیم ہے، تو دراصل یہ شاعر، مصور اور معمار کی تعریف ہے جنہوںنے انہیں کہا، بنایا یا تعمیر کیا ہے۔ ایسے ہی دنیا میں ہر چیز کی تعریف اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے۔ اللہ رب العزت کی تعریف کرتے ہوئے بھی کہا جاتا ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں۔ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے۔ کائنات میں ہمیں جو کچھ بھی نظر آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ہی تخلیق ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، لق و دق صحرا، بہتے دریا، ٹھاٹھیں مارتا سمندر، شور کرتی ندیاں، گھنے جنگلات، لہلہاتے کھیت، چمکتا سورج، دمکتا چاند، ٹمٹماتے ستارے، غرض ہر چیز اللہ رب العزت کی تخلیق کردہ ہے۔ لہٰذا جب بھی کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے تو وہ دراصل اس کے پیدا کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہی تعریف ہوتی ہے۔
اس تمہید کے بعد ہم اصل گفتگو کی طرف آتے ہیں کہ جب ہم کسی انسان کو اعلیٰ مقام پر دیکھتے ہیں، اس کے بلند رتبے یا اس کے کردار کی تعریف کرتے ہیں تو یہاں ہمارا خیال اسے اس مقام تک پہنچانے والی ہستی استاد کی طرف نہیں جاتا۔ حالانکہ انسان جب بھی کسی اعلیٰ مقام تک پہنچتا ہے تو اس کے پیچھے اس کے اساتذہ کا ہاتھ ہوتا ہے جو اسے تعلیم و تربیت دے کر اس مقام تک پہنچنے کے قابل بناتے ہیں۔ والدین انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہیں، کھانا پینا، لباس، رہائش وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں، لیکن اساتذہ انسان کو معاشرے میں رہنا سکھاتے ہیں، اس کے اخلاق و کردار کو سنوارتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ معاشرے میں ایک مقام حاصل کرلیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں استاد کو وہ مقام نہیں دیا جارہا جو انہیں دینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں استاد بننے کو پسند نہیں کیا جاتا۔ اساتذہ کو ملازم سمجھا جاتا ہے۔ والدین اور تعلیمی ادارے اساتذہ کے ساتھ ملازموں والا سلوک کرتے ہیں، جس کی وجہ سے طلبا کے دلوں میں بھی اساتذہ کی عظمت نہیں ہوتی اور وہ بھی انہیں ملازم ہی سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے اساتذہ کا رعب و دبدبہ باقی نہیں رہتا اور اساتذہ کا رعب و دبدبہ ختم ہوجانے کی وجہ سے ان کی باتیں اور نصیحتیں بے اثر ہوجاتی ہیں۔
ابھی حال ہی میں کورونا وائرس کے دوران اساتذہ کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔ بہت سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے لاک ڈاو¿ن کا بہانہ بناکر اساتذہ کو فارغ کردیا۔ اور یہ وہ مشکل وقت تھا جب کہیں اور ملازمت ملنے کی بھی کوئی امید نہیں تھی۔ لہٰذا اساتذہ کرام بے روزگار ہوگئے اور بہت سی جگہوں پر اساتذہ کے حالات سے مجبور ہوکر ریڑھیاں لگانے تک کی خبریں بھی سنی گئیں۔ یہ پوری قوم کےلیے شرم کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیمی شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ اس قسم کا سلوک کیا گیا، لیکن ہم نے اس کے خلاف کچھ نہ کیا۔ خود پرائیویٹ ادارے طلبا سے فیسیں وصول کرتے رہے۔ حکومت کی جانب سے بیس فیصد فیس معاف کرنے کے احکامات پر بھی عمل کرتے ہوئے تکلیف ہوئی، لیکن اساتذہ کو تنخواہیں نہ دیں۔ یہی حال ہر سال گرمیوں کی ڈھائی ماہ کی چھٹیوں کے دورا ن ہوتا ہے کہ اکثر تعلیمی ادارے طلبا سے مکمل فیسیں وصول کرنے کے باوجود اساتذہ کو تنخواہیں نہیں دیتے۔
میں تمام تعلیمی اداروں کی بات نہیں کررہا، کیوں کہ بہت سے تعلیمی ادارے ایسے بھی ہیں جو اساتذہ کا بہت خیال رکھتے ہیں اور انہیں ہمیشہ پوری پوری تنخواہیں دیتے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک تعلیمی ادارے کے پرنسپل سے میں نے اس حوالے سے سوال کیا کہ کیا آپ اساتذہ کو گرمیوں کی چھٹیوں میں تنخواہ دیتے ہیں؟ تو انہوںنے جواب دیا ”اساتذہ کو چھٹیوں میں تنخواہ نہ دینے کو میں جرم سمجھتا ہوں۔ کیا چھٹیوں میں اساتذہ کے اخراجات نہیں ہوتے، کیا چھٹیوں میں ان کے بچے غائب ہوجاتے ہیں؟“اساتذہ کا اتنا خیال رکھنے والے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں لیکن بہت سے تعلیمی ادارے اساتذہ کے ساتھ نہایت توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔ عمومی طور پر ہمارے پورے معاشرے کا یہی حال ہے۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھی۔ ایک صاحب نے لکھا ہوا تھا کہ اساتذہ کو گرمیوں کی چھٹیوں کی تنخواہ ملتی ہے حالانکہ وہ اس دوران فارغ ہوتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس دوران اساتذہ سے کوئی اور کام لے۔ میں نے انہیں بس اتنا جواب دیا کہ جس معاشرے میں استاد کی یہ عزت ہو وہاں آپ جیسے مفکرین ہی پیدا ہوتے ہیں۔
استاد کو عزت دینے سے ہی معاشرہ صحیح معنوں میں ترقی کرتا ہے۔ اس لیے کہ اساتذہ کو عزت دی جائے گی اور انہیں ان کے کام کا صحیح معاوضہ ملے گا تو وہ دل لگا کر محنت کریں گے اور اپنی تمام تر توجہ طلبا کو تعلیم دینے پر مرکوز رکھیں گے۔ لیکن اگر اساتذہ کو بقدر کفایت معاوضہ نہ دیا جائے تو اساتذہ اپنے اخراجات پورے کرنے کےلیے کسی اور کام کی تلاش میں مصروف ہوجائیں گے، جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ لہٰذا عوام کو اساتذہ کا خود خیال رکھنا چاہیے اور ان کی عزت کے ساتھ ساتھ ان کے اخراجات اور ضروریات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اسی طرح حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ پرائیویٹ اداروں کے اساتذہ کو مکمل تحفظ فرائم کرنے کےلیے قانون سازی کرے تاکہ کوئی ان کا استحصال نہ کرسکے اور ملک میں تعلیمی عمل احسن طریقے سے جاری رہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*