لوٹ کے بدھوں گھر کو لوٹے اربوں ڈالر پھونکنے کے بعد بھی امریکہ کو طالبان سے شرمناک شکست

سالار سلیمان
”گھڑیاں تمہارے پاس ہیں، وقت ہمارے پاس ہے۔ اور اگر اللہ نے چاہا تو ثابت قدمی سے ہم ہی فاتح ہوں گے۔”
آج سے تقریباً دو دہائی قبل جب طالبان نے یہ بات کہی تھی تو دنیا بھر نے اس بات کا ٹھٹھا اڑایا تھا۔ دنیا بھر کے عالمی جرائد نے ان کو شکست خوردہ ثابت کیا تھا۔ بات کو نوٹ کیجئے کہ جنگ جاری تھی، ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ طالبان پہاڑوں میں چھپنے کے بعد مزاحمت کر رہے تھے لیکن عالمی میڈیا ان کی شکست کی کہانی سنا رہا تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟
21 سال کے بعد وہی طالبان فاتح بن کر سورة النصر کی تلاوت کرتے ہوئے کابل کے صدارتی محل میں داخل ہوئے اور مغربی میڈیا اس عمل کو طالبان کی فتح قرار دینے پر مجبور ہوگیا۔
اس جنگ کا آغاز 2001 میں تب ہوا جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا اور امریکا نے اس کا الزام القاعدہ پر لگایا۔ امریکا نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن ان کا مجرم ہے، لہٰذا اس کو امریکا کے حوالے کیا جائے۔ طالبان نے ثبوتوں کا دعویٰ کیا تو امریکا نے ثبوت فراہم کیے، جنہیں پہلے تو طالبان سے مسترد کردیا اور بعد ازاں عالمی دباؤ پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن کو کسی تیسرے ملک کو دیا جاسکتا ہے لیکن امریکا کو براہ راست نہیں دیا جائے گا۔
جنگ شروع ہونے کے بعد دسمبر 2001 میں القاعدہ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حملہ آوروں کے بارے میں تہنیتی پیغامات جاری کیے اور یہاں سے وہ لوگ جو طالبان اور القاعدہ کیلیے نرم گوشہ رکھتے تھے، وہ محتاط ہوکر نیوٹرل ہوگئے یا پھر پیچھے ہٹ گئے۔ یہ اس بات کی عکاسی تھا کہ القاعدہ نے حملوں کی ذمے داری قبول کی۔ ہم یہاں پر کسی اور ہی پروپیگنڈہ کا شکار رہے تھے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حملے کے پیچھے چھپی اس یہودی سازش کو ڈھونڈتے رہے جو آج تک نہیں ملی۔ بن لادن کو کسی تیسرے ملک کو دینے کی پیشکش امریکا نے مسترد کردی اور پھر وہ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔
یہاں القاعدہ اور طالبان کا باہمی رشتہ بتانا ضروری ہے۔ القاعدہ اور طالبان دونوں الگ الگ اکائیاں ہیں۔ اسلام پسندی اور اسلام کے نام پر القاعدہ افغانستان میں موجود تھی لیکن وہ طالبان کے مکمل طور پر زیر اثر نہیں تھی۔ طالبان کا زور بھی مکمل افغانستان پر نہیں تھا بلکہ شمال کے علاقے عملاً جنرل دوستم کے زیر اثر تھے، جو کہ افغانستان کا وار لارڈ تھا۔ افغانستان میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا حملہ القاعدہ نے پلان کیا تھا۔ انہوں نے اس کیلیے ایک رپورٹ کے مطابق 14 مہینے پلاننگ کی تھی اور ایک رپورٹ کے مطابق 11 مہینے پلاننگ کی تھی۔ جب سب پلان ہوچکا تھا تو یہاں سے آگے تصدیق نہیں ہے کہ طالبان کے ساتھ اس پلان کو شیئر کیا گیا تھا یا انہوں نے اپنے طور پر ہی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا تھا۔
ققصہ مختصر امریکا نے افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے وار آن ٹیرر کا آغاز کردیا۔ دسمبر 2001 میں طالبان کابل سے نکل چکے تھے اور امریکا نے اپنی نگرانی میں وہاں پر نگراں حکومت قائم کی اور ساتھ ہی نیٹو افواج نے افغانستان میں امن و استحکام کے نام پر اڈے بھی قائم کرلیے۔ اب کون سا امن اور کیسا استحکام؟ یہاں سے افغانستان کے وسائل کی لوٹ مار کی الگ داستان ہے جس کی اگر مالیت نکالیں تو وہ کئی کھرب ڈالر بنتی ہے۔
نگراں حکومت کا سربراہ حامد کرزئی کو بنایا گیا اور بعد میں ہونے والے انتخابات میں حامد کرزئی کو ہی افغانستان کے صدر منتخب کروا دیا گیا۔ امریکا کے پاس اس وقت حامد کرزئی ہی وہ بندہ تھا جو اس کے مفادات کا تحفظ کرسکتا تھا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ پاکستان میں اس وقت پرویز مشرف امریکی مفادات کا تحفظ کرسکتا تھا اور پھر مشرف کے زیر سایہ حکومت بناکر اس کی صدارت بھی تسلیم کی گئی اور اس کو حکومت کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔ حالانکہ پرویز مشرف نے پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارشل لاء لگایا تھا اور امریکا مارشل لاء کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ وہ عالمی سطح پر جمہوریت کا علمبردار بنتا ہے لیکن یہاں اس نے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ خیر، اس سارے عرصے میں امریکا افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کرتا رہا۔ اس نے افغانستان بھر میں خفیہ نجی جیلیں بھی قائم کیں اور دنیا بھر سے طالبان اور القاعدہ کے حامیوں کو پکڑ کر گوانتانامو بے جیسی جیلوں میں رکھا گیا۔
طالبان 2004 میں دوبارہ منظم ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے افغان حکومت اور امریکی فوج کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ اب خطرہ صرف امریکا کیلیے نہیں بلکہ 46 ممالک کی فوج نیٹو اور امریکا کے ہر اتحادی کیلیے خطرہ موجود تھا۔
طالبان کے حملے دن بدن بڑھتے گئے حتیٰ کہ اوباما کے دور میں امریکا میں فوج کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ افغانستان میں ایک جانب امریکی فوج تھی اور دوسری جانب امریکی سرمایہ کاروں کا سرمایہ تھا، جس کی محافظ بھی امریکی فوج تھی اور کھرب ہا ڈالرز کی معدنیات اور قدرتی وسائل افغانستان سے نکالے جاتے رہے۔ 2009 کے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر سے حامد کرزئی کو صدر منتخب کروایا گیا لیکن ان انتخابات نے ایک بات واضح کردی کہ طالبان میں ابھی دم باقی ہے اور وہ یہ لڑائی طویل عرصے تک لڑ سکتے ہیں۔ اس دوران 2010 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔
مئی 2011 میں پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو خصوصی آپریشن کے ذریعے ہلاک کردیا گیا اور امریکا نے اس کا ڈی این اے کرکے اس کی لاش سمندر برد کردی۔ اس کے بعد امریکا نے افغانستان سے مرحلہ وار اپنی فوجوں کو واپس بلانا شروع کردیا، جس میں جون جولائی 2012 تک تقریباً 33 ہزار فوجی واپس امریکا چلے گئے۔ امریکا کیلیے ایک دم افغانستان کو چھوڑنا آسان نہ تھا اور وہ بھی اس وقت جب طالبان ہی نہیں بلکہ القاعدہ کا خطرہ بھی باقی تھا اور اس بات کی کوئی ضمانت نہ تھی کہ افغان سرزمین سے امریکا پر دوبارہ کوئی حملہ نہیں ہوگا۔
اس کے بعد 2014 میں اشرف غنی کو صدر بنایا گیا اور اسی سال دسمبر میں نیٹو نے اپنا مشن مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان سے نکلنے کا اعلان کیا۔ 2015 میں ہی طالبان نے افغانستان میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا شروع کیا تو کہیں سے داعش نکل کر سامنے آگئی۔ رپورٹس کے مطابق یہ سانپ امریکا نے افغان طالبان کیلیے پالا تھا لیکن طالبان نے فوری طور پر داعش کو کچل دیا اور جو ہمسایہ ممالک اس کی پشت پناہی کر رہے تھے، انھیں ایک سخت پیغام بھی پہنچا دیا گیا۔
2020 تک افغانستان میں موجود سیاسی اکائیاں اپنے باہمی اختلافات کی وجہ سے اپنا اثر کھو چکی تھی اور طالبان اس عرصہ میں بہت کچھ سیکھ چکے تھے۔ طالبان نے اس عرصے میں خود کو آن گراؤنڈ بھی مضبوط کیا تھا اور پھر یہی وجہ ہے کہ امریکا اس بات پر مجبور ہوا تھا کہ وہ افغانستان میں امن کی خاطر طالبان سے مذاکرات کا آغاز کرے۔ اس ضمن میں طالبان ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے کسی ہمسائے پر اعتبار کیلیے تیار نہیں تھے لہٰذا میدان قطر میں سجا اور دوحہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ اس معاہدے میں جہاں اور بہت کچھ طے پایا، وہیں فروری اور بعد ازاں مئی 2021 اور پھر ستمبر 2021 تک تمام بیرونی قوتوں کے انخلا کی تاریخ دی گئی۔ معاہدے میں یہ شامل تھا کہ افغان طالبان اور افغان انتظامیہ کابل میں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے اور ملکی امور کو چلانے کے متعلق اتفاق رائے پیدا کریں گے۔ یہ بھی معاہدے کا حصہ تھا کہ طالبان القاعدہ کو افغانستان میں قدم جمانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ افغان سرزمین طالبان کی سرپرستی میں امریکی حملے کیلیے استعمال نہیں ہوگی اور افغانستان سے داعش کی باقیات کا خاتمہ بھی کیا جائے گا۔
طالبان نے 2019 میں غالباً القاعدہ کو دو آپشن دیئے تھے۔ ایک یہ آپشن تھا کہ وہ ہتھیار سمیت طالبان کے ساتھ شامل ہوجائیں اور ان کے عسکری امیر کی بیعت کرلیں۔ دوسرا آپشن یہ دیا گیا تھا کہ وہ افغان سرزمین چھوڑ کر دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں اور ساتھ میں ایک ٹائم فریم بھی دیا گیا کہ اس کے بعد القاعدہ کے مسلح جتھے کے خلاف بھرپور آپریشن ہوگا۔ تادم تحریر القاعدہ افغانستان سے کوچ کرکے شام وغیرہ میں خود کو متحد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بن لادن کی ہلاکت یا شہادت کے بعد سے القاعدہ کو منظم کرنے میں دشواری کا سامنا ہے اور جبکہ القاعدہ کے دیگر لیڈران بھی یا تو منظر عام سے روپوش ہیں اور یا پھر وہ کسی نہ کسی ڈرون حملے وغیرہ میں مارے گئے ہیں۔
اس سال یکم مئی کو نیٹو نے افغان فورسز کی ٹریننگ کی غرض سے موجود باقی ماندہ فوج اور امریکی فوج نے بھی انخلا کردیا۔ مئی میں ہی قندھار کا ایئربیس بھی خالی کردیا گیا اور پھر 2 جون کو بگرام کا ایئربیس بھی خالی کردیا گیا۔ یہ وہی ایئربیس ہے جس کے ایک حصے میں بدنام زمانہ جیل امریکا نے تعمیر کی تھی اور ہمسایہ ممالک سے گرفتار کیے گئے افراد کو جانوروں سے بھی بدتر حالات میں اسی جیل میں ابتدائی دنوں میں رکھا جاتا تھا۔ جوبائیڈن نے یہ اعلان بھی کردیا تھا کہ اگست کے آخر تک نائن الیون کے بیس سال مکمل ہونے پر افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہوجائے گا۔
اس دوران میں حیران کن طور پر طالبان نے افغانستان میں ایسی پیش قدمی کی اور صوبے پر صوبہ فتح کرتے چلے گئے کہ دنیا بھر کے ماہرین حیران ہیں۔ ایسا بھی سننے میں آیا کہ طالبان کے چند افراد ہی صوبے میں جاکر صوبے کے معاملات کو ٹیک اوور کرلیتے تھے اور افغان انتظامیہ ان کے آگے سرینڈر کرجاتی تھی۔ ایسا طالبان کی شاندار حکمت عملی کی وجہ سے ہوا تھا۔
طالبان سیکرٹ رکھنے کے بھی ماہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملا عمر کی ایک بھی مصدقہ تصویر موجود نہیں ہے۔ طالبان کے دو گروہ ہیں۔ ایک سیاسی ونگ ہے اور دوسرا عسکری ونگ ہے۔ سیاسی ونگ میں پکی عمر کے مشران ٹائپ لوگ ہیں یا وہ لوگ موجود ہیں جن کی شناخت اب ظاہر ہوچکی ہے۔ جبکہ عسکری ونگ مکمل طور پر خفیہ ہے، جس کے افراد کے نام تو دنیا جانتی ہے لیکن ان کی نہ تو کوئی تصویر موجود ہے اور نہ ہی کوئی ویڈیو منظرعام پر موجود ہے۔ طالبان کے سیاسی ونگ نے کمال مہارت سے افغان انتظامیہ پر کئی ماہ لگائے اور صرف اپنی زبان سے طالبان کے خلاف ان کا مورال بالکل ہی ختم کردیا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ سوشل میڈیا کی بدولت امریکا طالبان مذاکرات میں پیش رفت نے بھی اپنا اثر ڈالا۔ یہی وجہ ہے طالبان نے مارچ شروع کیا تو صوبوں کا کنٹرول پکے ہوئے پھل کی مانند ان کی گود میں گرا اور دو چار کے علاوہ کہیں بھی طالبان کو مزاحمت کا سامنا کرنا نہیں پڑا تھا، حتیٰ کہ طالبان کابل کے دروازے پر پہنچ گئے۔ جس کے بعد ایک جانب اشرف غنی نے حکومت چھوڑ کر دوڑ لگائی اور دوسری جانب امراللہ صالح نے بھی بھگوڑوں میں اپنا نام لکھوایا۔ یہاں سے افغانستان بھر کی انتظامیہ بالکل ہی ڈھے گئی۔ عبدالرشید دوستم شاید ترکی سے صرف شکل دکھانے آیا تھا اور واپس غائب ہوگیا اور طالبان فاتح بن کر اس ہی شہر میں دوبارہ سورة النصر کی تلاوت کرتے ہوئے داخل ہوئے جس کو ان سے امریکا نے بزور قوت چھینا تھا۔
امریکی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کو یہ وار آن ٹیرر 2020 تک غالباً 22 سو ارب ڈالر میں پڑ چکی ہے۔ اس جنگ میں 48 ہزار افغان سویلین مارے گئے، 70 ہزار افغان فوجی مرے، 40 لاکھ سے زائد مہاجرین سامنے آئے، جبکہ 3 ہزار کے لگ بھگ امریکی فوجی اس جنگ میں مارے گئے تھے۔
ایک خبر کے مطابق امریکا 3 ارب ڈالر سالانہ افغانستان کو تعمیر نو کے نام پر دے گا، جس کو طالبان کی جانب سے جنگ میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ قرار دیا جارہا ہے۔ طالبان کے سیاسی ونگ کے اراکین دنیا بھر سے رابطے میں ہیں اور وہ افغانستان کی تعمیر نو کیلیے سنجیدہ ہیں۔ خانہ جنگی کا خطرہ اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے لیکن موجودہ صورتحال کے مطابق افغانستان میں کابل تک مارچ کرتے ہوئے ماضی کی طرح لاشوں کے انبار نہیں لگے ہیں۔ طالبان کی جانب سے کیے جانے والے اب تک کے تمام تر اقدامات ہی حوصلہ افزا ہیں، جن میں تمام مخالفین جو کہ طالبان سے لڑنے کیلیے آمادہ نہیں ہیں، ان کیلیے عام معافی کا اعلان، عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے اور نوکری کرنے کی آزادی بڑے اقدامات ہیں۔
افغانستان میں دیرپا امن کیلیے جلد یا بدیر ملاعمر کا فارمولا ہی اپنانا ہوگا۔ انہوں نے افغانستان کے ایک عجائب گھر سے وہ چادر منگوائی تھی جس کی نسبت نبی کریمۖ سے ہے اور اسلام کے نام پر افغانستان کے تمام قبائل کو جوڑ دیا تھا۔ یہی سب کچھ دوبارہ ہوگا تو ہی افغانستان میں امن قائم ہوگا۔ طالبان میں جو اتحاد موجود ہے وہ بھی اسی وجہ سے ہے۔ بصورت دیگر افغانستان میں لسانیت، قومیت اور قبائلیت کے اتنے مسئلے ہیں کہ امن شاید 3 ماہ بھی برقرار نہ رہ سکے۔ شنید ہے کہ ملاعمر کے صاحبزادے ایسا ہی کوئی اقدام کریں گے۔
افغانستان میں امن کا براہ راست فائدہ پاکستان کو ہوگا۔ طالبان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی بارڈر ماضی کی طرح برائے نام رہے تاکہ دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات بحال ہوسکیں۔ یہ حقیقت ہے کہ طالبان کی پاکستان کے ساتھ خوشگوار یادیں ہرگز نہیں ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان ماضی میں دفن ہوکر رہنا نہیں چاہتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں جنرل پرویز مشرف کی وجہ سے بوئے گئے زہریلے کانٹے کب تک چننے پڑیں گے؟
طالبان کے آنے سے پاکستان کو ایک سکھ کا سانس اس لیے بھی ہوگا کہ اب افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوسکے گی اور بھارت نے جو پراکسی وار یہاں سے پاکستان کے خلاف شروع کی تھی، وہ ختم ہوگئی ہے۔ پاکستان میں طالبان کے حامیان موجود ہیں، یہ ایک حقیقت ہے۔ ماضی میں صرف ایم ایم اے ہی نہیں بلکہ دیگر کئی مذہبی جماعتیں بھی طالبان کو سپورٹ کرتی رہی ہیں بلکہ پاکستان میں بن لادن کی موت پر نماز جنازہ بھی ادا کی گئی تھی۔ لہٰذا ریاست کیلیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ کسی بھی ایسے گروہ کو مسلح فعال ہونے سے روکے اور طالبان بھی ایسے تمام گروہوں سے اعلان لاتعلقی کریں جو پاکستان میں مسلح جدوجہد کی خواہش رکھتے ہیں۔ ریاست پاکستان کا متفقہ بیانیہ ہے کہ پاکستان میں افغانستان یا طالبان کی طرز کی حکومت نہیں آئے گی۔ طالبان کیلیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس خطے کو دفاعی اور سیاسی نقطہ نظر سے سمجھیں اور دنیا کو ساتھ لے کر چلیں اور ماضی کی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائیں۔
یہاں پاکستانیوں کیلیے ایک نقطہ سمجھنے کا ہے۔ سوشل میڈیا پر تین طرح کے طبقات پاکستان کے سامنے آئے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو طالبان کی فتح سے خوش ہیں۔ ایک وہ ہیں جو طالبان کی فتح سے ناخوش ہیں۔ یہ نہ صرف رنجیدہ ہیں بلکہ خوفزدہ بھی ہیں۔ اور تیسرا طبقہ وہ ہے جو نیوٹرل ہے۔ وہ صرف خبریں دیکھ رہا ہے اور ہلکے پھلکے تبصرے بھی کررہا ہے۔ پہلا طبقہ میرا مخاطب اس وقت نہیں ہے، ان سے بس یہی عرض ہے کہ دعا کیجئے کہ طالبان نے ماضی سے سیکھ لیا ہو کہ پرامن پاکستان کیلیے پرامن افغانستان ضروری ہے۔ علامہ اقبال اس بات کو جان گئے تھے کہ ایشیا کا امن افغانستان میں امن سے جڑا ہوا ہے۔ دوسرے طبقے کی منافقت پر حیرانی ہے کہ کیسے دوغلے اذہان کے لوگ ہیں۔ مطلب ان کیلیے چی گویرا تو ہیرو ہے، جس نے دنیا بھر کے انقلابی ایک ملک میں اکٹھے کرکے مروا دیے تھے، جبکہ نہ وہ وطن اس کا تھا، نہ وہ اس کی زبان جانتا تھا اور نہ ہی اس کے پاس کوئی واضح ایجنڈا تھا۔ لیکن طالبان دہشتگرد ہیں، کیوں؟ طالبان مقامی مزاحمت کار تھے۔ انہوں نے 20 سال اپنے وطن کا دفاع کیا ہے۔ یہ دنیا بھر میں رائج مقامی مزاحمت کاری کی تعریف پر پورا اترتے تھے۔ یہ ہر لحاظ سے انقلابی، حریت وغیرہ کی تعریف پر پورا اترتے تھے۔ تو یہ دہشتگرد کیوں ہیں؟ اس لیے کہ وہ افغان معاشرے میں صدیوں سے رائج روایات کا احترام کرتے ہیں یا اس لیے کہ وہ اسلام پسند ہیں؟ مطلب، پیمانہ تو ایک رکھیں، معیار تو ایک رکھیں، اگر طالبان پر تبرا کرنا ہے تو اس سے پہلے امریکا پر تبرا کیجئے جس نے 20 سال کے بعد بھی جنگ بندی کیلیے بقول آپ کے دہشتگردوں سے مذاکرات کیے ہیں اور اپنے انسانی اثاثے وہیں چھوڑ کر دوڑ لگا دی ہے۔ اس پر تبرا کیوں نہیں فرماتے ہیں؟ ڈالروں کا معاملہ ہے؟
امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے حالیہ خطاب میں اگرچہ افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ جنگ کے خاتمے کے اعلان کو اپنی فتح سے تعبیر کیا ہے اور امریکی افواج کے انخلا کا دفاع بھی کیا ہے، لیکن ان کا خطاب سننے والے جانتے ہیں کہ خاتمے کی توجیہات دیتے ہوئے امریکی صدر کا کیسا شکست خوردہ لہجہ تھا۔ جوبائیڈن اگرچہ وہاں سے سفارتی عملے کے انخلا کے بعد دیگر امریکیوں کو بھی نکالنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ بات طالبان بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ انہیں مکمل انخلا کا موقع دیں گے۔ مسئلہ ان کیلیے ہے جنہو ں نے طالبان کے خلاف امریکا کا افغانستان میں ساتھ دیا تھا۔ طالبان نے سب کیلیے عام معافی کا اعلان تو کیا ہے لیکن یہ عام معافی طالبان کے خلاف مزاحمت نہ کرنے سے ہی مشروط ہے۔ امریکا نے اپنی روایات کے عین مطابق اپنے تمام ‘اثاثے’ افغانستان میں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے ہیں۔ اب دو ہی آپشن ہیں کہ یا تو یہ اثاثے عام معافی کے اعلان کا فائدہ اٹھائیں، بصورت دیگر ان کا حال ویسا ہی ہوگا جیسا کہ اس ڈاکو کا ہوا تھا جس پر حال ہی میں ڈکیتی اور قتل کا جرم ثابت ہوا اور طالبان کی عدالت نے اس کو قرار واقعی سزا بھی دی۔
افغانستان کا مستقبل میں سیاسی سیٹ اپ کیسا ہوگا، اس کا فیصلہ افغان خود ہی کریں گے اور اس کیلیے بھی کسی کی رائے کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کی اپنی معاشرتی روایات ہیں، ان کا اپنا سسٹم ہے اور ان کا اپنا سیٹ اپ ہوگا۔ اقوام عالم پر لازم ہے کہ وہ نہ صرف نئے سیٹ اپ کو قبول کرے بلکہ ان کو تعمیر نو میں معاونت بھی فراہم کرے۔ افغانستان پر 20ـ21 سال قبل 46 ممالک کی فوج نیٹو، امریکا نے حملہ کیا تھا اور طالبان نے اس سارے عرصے میں اپنا نہ صرف وجود برقرار رکھا ہے بلکہ آخر میں امریکا کو مجبور کیا ہے کہ وہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر اس جنگ کو ختم کرتے ہوئے افغانستان سے کوچ کرے۔
یہ بات سوچنے اور سمجھنے کی ہے کہ امریکا نے طالبان سے ملاعمر کی حکومت ووٹ آؤٹ کرکے حاصل نہیں کی تھی، لہٰذا یہ فیصلہ افغان خود ہی اپنی روایات کے مطابق زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*