ویڈیوز کیسے لیک ہوتی ہیں!

محمد عمران
غربت اور بھوک نے اسے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کردیا، نوکری کی تلاش میں وہ معروف سیاسی پارٹی کے لیڈر تک جاپہنچی، جس نے اس کی خوبصورتی اور اپنی ضرورت کی وجہ سے اسے سیاستدان بنانے کا فیصلہ کیا۔ اپنی قربانی کے بعد بھی جب اسے مقصد حاصل نہ ہوا تو اس نے لیڈر کی ویڈیو لیک کر دیں، ہندوستانی سیاست کی عکاسی کرتی معروف فلم کا یہ منظر گزشتہ دنوں زبیرصاحب کی ویڈیوز لیک ہونے کے معاملے پر اس تکرار کے دوران یاد آ گیا کہ ویڈیو لیک کس نے کی، میرا ہر گز یہ دعوی نہیں ہے کہ زبیر صاحب کی ویڈیو متاثرہ خواتین کی طرف سے لیک کی گئی ہے لیکن ہو بھی سکتا ہے کیونکہ اپنا سب کچھ لٹا کر بھی اگر اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتے تو پھر کچھ بھی کرسکتیہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ویڈیوز بلیک میلنگ کی غلاظت اب شرفا کو بھی آلودہ کر رہی ہے، ماضی میں بد کردار اور گھٹیا لوگ اپنے غلیظ مقاصد کے لیے معصوم اور شریف لوگوں کی زندگیاں تباہ کرتے تھے جس کا سد باب نہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں اب اس غلاظت کو ختم کرنے کے ذمہ داران بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں طالب علم سے بدفعلی کی ویڈیو لیک ہونے پرزیر حراست عالم دین کے معاملے کی جب تحقیق ہوئی تو برطانوی نشریاتی ادرے کے مطابق متاثرہ طالب علم نے اپنی قربانی کے باوجود مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد خودویڈیو لیک کی تھی ، ایسا ہی کچھ کہنا تھا معروف فنکار اور سابق سول سرونٹ عاشر عظیم کا جن کے بقول پہلے ویڈیوز خود بنائی جاتی ہیں پھر ان کے ذریعے مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں،یاد آیا کہ گزشتہ دنوں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ سوال بھی شدو مد کے ساتھ اٹھایا گیا کہ مفتی صاحب کی ویڈیو لیک ہونے پر انہیں جیل بھیج دیا گیا اور زبیر صاحب کی ویڈیو لیک ہونے پر مریم نواز نے یہ کہتے ہوئے اپنا فرض ادا کردیا کہ انہیں زبیر کی ذاتی زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں اور حکومت ویڈیو بنانے ، بنوانے اور لیک کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے بس لطف اندوز ہوتی رہی ، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت اس واقعے کے تمام کرداروں کے خلاف مثالی کاروائی کے ذریعے ایسیواقعات کے سدباب کی کوشش کرتی، کیونکہ ویڈیو بلیک میلنگ کا چلن اب عام ہوتا جارہا ہے ، ماضی قریب میں معروف ادکارہ رابی پیر زادہ ،جناب جسٹس جاوید اقبال اور دیگر اہم شخصیات کی ویڈیو لیک ہوئیں مگر کسی کے خلاف کسی قسم کی کاروائی سامنے نہ آئی جس کی وجہ سے بظاہر ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے زبیر صاحب کے کیس کو مثال بنائے ،ویڈیو بنانے والوں، لیک کرنے والوں اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے غلط راستہ اختیار کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی کسی کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کی کوشش نہ کرے کیونکہ ہمارا دین اس طرح کیغلیظ کاموں کی اجازت نہیں دیتا، قران پاک میں اللہ رب العزت نے صاف اور واضح الفاظ میں تجسس کرنے منع فرمایا ہے اور تاجدار مدینہ راحت و قلب سینہ حضرت محمد ۖکا فرمان عالیشان (مفہوم) جو مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور جو مسلمان کی پردہ دری کرتا ہے اللہ اس کی پردہ دری فرماتا ہے حتی کہ گھر بیٹھے ذلیل و رسوا فرماد یتا ہے۔
ایک آخری گزارش کہ زبیر صاحب کے بارے میں بھی تحقیق کی جائے کہ آیا ویڈیو میں نظر آنے والا شخص زبیر صاحب ہی ہیں اگر ایسا ہے تو انہیں بھی سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اپنے عہدے کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکے اگر نظر آنے والا زبیر نہیں ہے پھر بھی اس شخص کے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ جرم تو جرم ہے چاہے وہ زبیر کرے یا عام بندہ یا پھر مفتی ، کیونکہ پہلی قوموں پر عذاب اسی لیے آتے تھے کہ ان میں طاقتور کو جرم کرنے پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔اگر ریاست ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئی تو امید ہے کہ ایسے واقعات کا سد باب ہوسکے گا بصورت دیگر منتظر رہیں کس کے گھر جائے گا سیلاب میرے بعد ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*